گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستان سے مزیدموثر اقدامات پر عملدرآمد کا مطالبہ

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت  سے متعلق اقدامات کو ناکافی قراردیتے ہوئے پاکستان سے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، رواں سال فروری میں فیٹف نے پاکستان کی گرے لسٹ سے اخراج کی نوید سنائی تھی تاہم اب ایک بار پھر سے اسلام آباد کے اقدامات کو ناکافی قراردیا جارہا ہے

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کے اقدامات کو ناکافی قراردیا ہے۔ منی لانڈرنگ پر ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت سے متعلق اقدامات کو ناکافی  قرار دیتے ہوئے پاکستان سے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دیئے گئے11 میں سے صرف ایک پر مکمل عملدرآمد کیا گیا ہے تاہم باقی 10 اقدامات پر اٹھائے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل پائے گا؟

منی لانڈرنگ پر ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی ) نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے 11 نکات میں سے 10 پر اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کو کافی مثبت نہیں سمجھا گیا۔

ایف اے ٹی ایف اور اے پی جی کے مشترکہ وفد نے پاکستان کے دورہ کرکے34 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے حوالے سے  معاملا ت جائزہ لیا تھا جبکہ پاکستان 40 میں سے 38 نکات پر مکمل عمل درآمد کرچکا ہے ۔

فیفٹ نے رواں سال فروری میں کہا تھا کہ پاکستان تمام تر نکات پر بڑی حد تک عمل کرلیا ہے جس پر اسلام آباد کو گرے لسٹ سے نکالنے کا کہا گیا تھا تاہم اس سے قبل  پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے  اپنی ٹیم بھیجنے کا کہا تھا ۔

ایف اے ٹی ایف (فیفٹ) کیا ہے ۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) انسداد منی لانڈرنگ ایک عالمی ادارہ ہے جو کہ جی سیون ممالک نے بنایا ہے۔ ادارے کے قیام کا مقصد دہشتگردوں کا ساتھ دینے والے ممالک پر اقصادی پابندیاں لگانا ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا قیام 1989 میں فرانس میں عمل میں آیا تھا۔ شروع میں جی سیون ممالک  کے اتحادی ارکان کی تعداد 7 تھی تاہم جو بعد میں بڑھتے بڑھتے 39 ہوچکی ہے ۔

ایف اے ٹی ایف میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں جبکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ کا حصہ ہے جس میں تقریباً 180 ممالک شامل ہیں ۔

نائن الیون حملوں کے بعد دہشتگردی کیلئے فنڈز کی فراہمی کی روک تھام کے لیے 2001 میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔

 گرے لسٹ کیا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) رکن ممالک کی نگرانی کیلئے فہرست (لسٹس ) کا استعمال کرتا ہے  جنہیں بلیک اور گرے لسٹ کہا جاتا ہے۔ بلیک لسٹ میں  انتہائی خطرناک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے ۔

گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے جن کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں اور وہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اعادہ کریں۔

متعلقہ تحاریر