خیبر پختونخوا میں دہشتگردی ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے لگی

کرم ایجنسی میں سرحدپار دہشتگردوں کی فائرنگ سے 3 فوجی شہید ، ضلع سوات کے علاقہ بانڈی میں ریمورٹ بم دھماکے میں چھ افراد جاں بحق جبکہ تحصیل مٹہ سے موبائل فون کمپنی کے 7 ملازمین کو اغواء کرلیا گیا۔

دہشتگردی کے حوالے سے گزشتہ روز صوبہ خیبر پختونخوا کے لیے بدقسمت ترین دن رہا، سوات اور کوہاٹ کے علاقے چند گھنٹوں میں دھماکوں سے لرز اٹھے ، کرم ایجنسی پر سرحد پار سے فائرنگ کے نتیجے میں تین فوجی جوان شہید ہو گئے جبکہ تحصیل مٹہ سے بین الاقوامی موبائل فون کمپنی کے سات ملازمین کو اغواء کرلیاگیا۔

سرحد پار افغانستان سے دہشتگردوں نے کرم ایجنسی پر قائم پاک فوج کی چوکی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین فوجی جوان شہید ہو گئے۔

سرحد پار سے پاک فوج پر فائرنگ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق واقعہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم خرلاچی میں پیش آیا جہاں سرحد پار سے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے پاک فوج کے تین جوان شہید کر دیئے۔ شہید ہونے والوں جوانوں میں نائیک محمد رحمان، نائیک معویز آفریدی اور سپاہی عرفان اللہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی کابینہ کا سیلاب زدہ علاقوں میں چھٹی والے دن بھی بینک کھلے رکھنے کا فیصلہ

جیونیوز کے اینکر منیب فاروق پر توہین عدالت کا مقدمہ بنے گا ؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی گئی  جس سے دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

ترجمان آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہاہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے اور پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان حکومت مستقبل میں ایسی کاروائیوں کی اجازت نہیں دے گی۔

سوات میں گاڑی پر حملہ

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات علاقہ بانڈی میں امن کمیٹی کے ممبر کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں امن کمیٹی ممبر ادریس خان سمیت 5 افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔

ریموٹ کنٹرول بم حملے میں امن کمیٹی کے ممبر ادریس خان سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ گاڑی بھی مکمل تباہ ہوگئی ، جاں بحق افراد میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکہ ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا ہے.

ڈی پی او سوات کے مطابق جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ہیڈ کانسٹیبل رامیل اور کانسٹیبل توحید شامل ہیں جبکہ دو راہگیر ثناء اللہ ولد قدیم اور ایک شخص نامعلوم جاں بحق ہوئے ہیں۔

کالعدم ٹی ٹی پی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ادریس خان تقریباً 13 سال سے ان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔

کوہاٹ میں دستی بم حملہ 

چند گھنٹے بعد کوہاٹ کے بلتانگ تھانے پر دستی بم حملہ ہوا، جس میں ایس ایچ او، چار کانسٹیبل سمیت سات افراد اور دو شہری شدید زخمی ہوئے۔

منگل کی رات ہونے والا یہ دھماکہ ایک کالعدم تنظیم کی طرف سے عام دھمکیوں کے بعد ہوا۔

ریسکیو 1122 نے زخمیوں کو فوری طور پر کے ڈی اے ٹیچنگ ہسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں کی جانب سے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

زخمی اہلکاروں کے نام ایس ایچ او عبدالرؤف خان، کانسٹیبل مظفر حسین، مطیع اللہ خان، عتیق اور اسامہ ہیں۔ دو شہریوں کے علاوہ، عارف اور سہیل خان، جو تھانے میں موجود تھے، بھی زخمی ہوئے۔

بعد ازاں سی ٹی ڈی نے نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی۔

دوسری طرف ایک نجی نیوز ایجنسی خراساں ڈائیری نے اپنے ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ "پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی موبائل سروس کمپنی کے سات ملازمین کو آج دوپہر ضلع سوات کی تحصیل مٹہ سے اغوا کیا گیا ہے۔ کمپنی ہیڈکوارٹر کو موصول ہونے والی کال میں ملازمین کو رہا کرنے کے بدلے دس کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔”

متعلقہ تحاریر