ایم کیوایم کارکنوں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی نے چپ کا روزہ رکھ لیا

مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے اتحادی وفاقی وزیر برائے بحری امورسینیٹر فیصل سبزواری نے کہالاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لیے حکومت میں شامل ہوئے لیکن بدلے میں مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، وفاقی حکومت نے واقعے کی مذمت کی اور تحقیقات کا حکم دیا مگر وزیر اعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ صوبے کی پولیس اورقانون نافذ کرنے والے ادارے وزیراعلیٰ سندھ  کو جواب دہ ہوتے ہیں

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایم کیو ایم  کے تین کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں اور پارٹی کے متعدد کارکن تاحال لاپتہ ہیں۔

وفاقی وزیربرائے بحری امورسینیٹر فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کیلئے ایم کیو ایم پاکستان حکومت میں شامل ہوئی لیکن بدلے میں ان کی مسخ شدہ لاشیں ملیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایم کیو ایم کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں، خواجہ سعد رفیق

انہوں نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جن کارکنوں کی لاشیں ملیں انہیں پہلے گرفتار کیا گیا تھا اور پھر بعد میں وہ لاپتہ ہوگئے۔ اب سندھ کے مختلف اضلاع سے ان کی لاشیں برآمد ہوئیں ہیں۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ عرفان بصارت، عابد عباسی اور وسیم اختر(راجو) اگرکسی مقدمے میں مطلوب تھے توانہیں اور دیگرلاپتہ افراد کو گرفتاری کے بعد عدالتوں میں پیش کیا جاتا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور کا کہنا تھا کہ  کئی برسوں جبری گمشدہ رکھنے کے بعد، بغیر مقدمہ چلائے سزائے موت صادر کر دینا دراصل قانون و انصاف کی موت ہے۔

وفاقی وزیر فیصل سبزواری نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایم کیو ایم پی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف مظالم کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں خود وفاقی وزیر ہوں لیکن میں یہ سوال اٹھا رہا ہوں کہ ان لاپتہ سیاسی کارکنوں کو کیوں مارا گیا؟۔

وفاقی وزیر برائے سمندری امورنے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر وزیراعظم سے رابطے میں تھے  جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کو بھی پیغامات بھجوائے گئے تھے ۔ ہم وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے  کارکنوں کی مسخ  شدہ لاشیں  برآمد ہونے  کی تحقیقات کی یقین دہانی کروائی  ہے ۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ  لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر ایازصادق نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں خالد مقبول صدیقی اورامین الحق سے ملاقات  کی اور انہیں لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ۔

رانا ثنا اللہ نے سندھ حکومت کے ساتھ ملکر ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں کی لاشیں ملنے کے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کا عزم  کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے ۔

وفاقی وزیر داخلہ نےایم کیو ایم کے کارکنوں کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات کااعادہ کیا مگر سندھ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے ۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی  مرکزی اور صوبائی قیادت  نے اب تک ایم کیو ایم کے کارکنوں کی لاشیں ملنے کے واقعے کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی کسی تحقیقات کا حکم دیا ۔

ایم کیو ایم   ترجمان کے مطابق تینوں کارکنوں کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں وہ لاپتہ ہوگئے اب ان کی لاشیں بر آمد ہوئیں ہیں   جبکہ کراچی پولیس سندھ حکومت کے  تحت کام کرتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

قانون نافذ کرنے والے ادارے اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہیں، کے سی سی آئی

ایم کیوایم کے کارکنوں کی کراچی سے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہونے کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے مگر وفاقی حکومت تحقیقات  کے احکامات دی رہی ہے اور پی پی حکومت   منظر سے غائب ہے ۔

 سندھ میں گزشتہ 14 سالوں پیپلز پارٹی بر سراقتدار ہے ۔ صوبے کو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبائی حکومت کو جواب دہ ہیں  مگر صوبائی حکومت شاید کسی کو جواب دہ نظر نہیں آتی  ہے ۔

وفاق میں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان  کے وزیر فیصل سبزواری نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو لاپتہ افراد کے حوالے سے متعدد بار پیغامات بھیجے   گئے تھے ۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےاپنی ہی اتحادی جماعت کے کارکنوں کا ظلم  و جبر کا سامنا کرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا۔ سماجی و عوامی حلقوں نے تمام ترواقعات میں پیپلزپارٹی  کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔

متعلقہ تحاریر