چیف جسٹس کی تقریر پر جسٹس طارق مسعود اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار مایوسی

سپریم کورٹ کے ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے مشترکہ خط میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ تنہا چیف جسٹس پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں تمام ججز شامل ہیں، چیف جسٹس نے زیر سماعت کیسز پر بات کی جو کہ نا مناسب اور غیر معقول تھا

سپریم کورٹ پاکستان کے ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے نئے عدالتی سال کے موقع پر چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے خطاب کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے ان کے ریمارکس  سے متعلق خط لکھ دیا ۔

سپریم کورٹ کے ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے مشترکہ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سپریم کورٹ کو ایک وحدت کی صورت پیش کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کردار کو جانبدارانہ قرار دے گیا

خط کے متن کہا گیا کہ چیف جسٹس عمرعطا بندیا ل کے خطاب نے مایوس کیا۔ انہوں نے یکطرفہ طورپرسپریم کورٹ کی طرف سے بات کی تاہم سپریم کورٹ تنہا چیف جسٹس پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں تمام ججز شامل ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) اور اس کے موجودہ اور ماضی کے متعدد عہدیداروں کے بارے میں غیر ضروری اور توہین آمیز ریمارکس دیئے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے مشترکہ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے دوران خطاب زیرسماعت مقدمات پر بات کی، جیوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے کام اور فیصلوں کا بھی ذکر کیا جو سب سے زیادہ نا مناسب اور غیر معقول تھا ۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے مطابق تقریر کے دوران وہ دونوں چیف جسٹس کے دائیں اور بائیں بیٹھے تھے مگر تقریب کے وقار کے تحفظ کی خاطر وہ  چیف جسٹس کی تقریر کے دوران خاموش رہے ۔

متعلقہ تحاریر