سابق جج رانا شمیم اپنے تمام دعوؤں سے دستبردار ، ن لیگ اب کیا کرے گی؟

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق اپنے بیان حلفی سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے غیرمشروط معافی کی درخواست کی ہے۔

توہین عدالت کیس میں ہر روز نیا سے نیا موڑ آرہا ہے ، گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے ایک مرتبہ پھر توہین عدالت کیس میں اپنا بیان حلفی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔

رانا محمد شمیم نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) ثاقب نثار پر نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کے اپنے بیان حلفی کے مندرجات سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

یہ بھی  پڑھیے

چیف جسٹس کی تقریر پر جسٹس طارق مسعود اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار مایوسی

شہباز گِل پر جسمانی تشدد کا معاملہ: سپریم کورٹ سخت نوٹس لے رہی ہے

واضح رہے کہ رانا محمد شمیم نے اپنے بیان حلفی میں الزام لگایا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے انتخابات سے قبل مریم نواز اور نواز شریف کو ضمانت نہ دینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز پر دباؤ ڈالا تھا۔

یاد رہے کہ 12 ستمبر کو سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے 10 نومبر کو دی نیوز میں شائع ہونے والے اپنے بیان حلفی پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے غیرمشروط معافی مانگی تھی۔ تاہم وہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف اپنے الزامات پر قائم رہے۔

انہوں نے 10 نومبر 2021 میں ایک انگریزی روزنامے "دی نیوز” میں اپنے پہلے حلف نامے کی اشاعت کے بعد ان کے خلاف شروع کی گئی توہین عدالت کی کارروائی کے جواب میں جمعہ کو جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں غیر مشروط معافی مانگی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 12 ستمبر کو رانا محمد شمیم ​​کو حلف نامہ میں غیر مشروط معافی مانگنے کی ہدایت کی تھی۔

جمعہ کو جمع کرائی گئی دستاویز میں رانا محمد شمیم نے دوبارہ معافی کی درخواست جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے اپنے ہی ‘متنازعہ’ حلف نامے سے انکار کیا اور اس کے مندرجات سے دستبردار ہوگئے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں حلف نامے میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم ​​نے کہا تھا کہ "سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو فون کر کے نواز شریف اور مریم نواز کی رہائی جولائی 2018 کے عام انتخابات تک مؤخر کرنے کا کہا تھا۔”

جمعہ کو داخل کیے گئے معافی نامے میں رانا محمد شمیم نے کہا ہے کہ "میں ایک ایسے حلف نامے کے لیے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں جو نہ تو درست تھا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی۔ میں ایک غلط حلف نامہ کے لیے معذرت خواہ ہوں، جس میں ایک معزز جج کا نام غلطی سے اور غیر ارادی طور پر درج کیا گیا۔ مجھے مزید افسوس ہے اور اپنی اس سنگین غلطی پر معافی مانگتا ہوں جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘

معافی نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ "10 نومبر 2021 کے حلف نامے میں اس معزز عدالت کے جج کا نام غیرارادی غلطی کی وجہ سے تھا۔ اس لیے میں مذکورہ حلف نامے کے مندرجات سے دستبردار ہوتا ہوں۔ میں اپنے حلف نامے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔”

متعلقہ تحاریر