جی سی یونیورسٹی لاہور میں داخلے کیلئے اب اپنی ذات بھی بتانا پڑے گی

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یونیورسٹی ) کے نئے داخلہ فارم میں ذات پات کا کالم بھی شامل  کرنے پر طلبا و طلبات کے والدین اور سول سائٹی  کی جانب سے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ ذات پات میں تقسیم در تقسیم قوم اس سے مزید خرابی کی جانب گامزن ہوگی تاہم چانسلر کا کہنا ہے یہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر شامل کیا گیا ہے

پاکستان کی قدیم جامعات میں شمار ہونے والی لاہورکی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے داخلہ فارم میں مذہب کے بعد اب ذات پات کا کالم بھی شامل کرلیا گیا ہے جس کے بعد طلبہ و طلبات کو اپنی ذات بھی بتانا پڑے گی ۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یونیورسٹی ) نے اپنےنئے داخلہ فارم میں ذات پات کا کالم بھی شامل کرلیا ہے۔ داخلہ فارم میں ذات پات کا کالم شامل کرنے پر طلبا و طلبات کے والدین اور سول سائٹی  اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیے

گورنمنٹ ایلیمنری کالج لیاقت آباد کی طالبہ ساحرہ اقبال کا اعزاز

وائس چانسلر جی سی یوپروفیسرڈاکٹر اصغرزیدی کے مطابق فارم میں ذات پات کا کالم نیا ہے تاہم اب اسے دوبارہ پنجاب حکومت کی ہدایت پرشامل کیا گیا  ہے مگر  ذات کا کالم بھرنا لازمی نہیں ہے ۔

دوسری جانب  طلباء کے والدین نے اسے ایک غیر ضروری عمل قرار دیتے ہوئے اسے  ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے  اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے احتجاج کیا جارہا ہے ۔

والدین اور سوشل میڈیا سے ذات پات کے کالم کے ناقدین نے کہاکہ پاکستانی معاشرہ پہلے ہی ذات پات میں تقسیم در تقسیم ہوتا جا رہا ہے اس طرح کے اقدامات سے صورت خال مزید خراب ہوگی ۔

وائس چانسلر جی سی یوپروفیسر ڈاکٹراصغر زیدی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے داخلوں کی ذات کے لحاظ سے تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا تو اعداد و شمار فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے انٹرمیڈیٹ کلاسز کے لیے انٹری ٹیسٹ سے متعلق بتایا کہ اس حوالے سےغلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ یونیورسٹی کے داخلوں میں میرٹ کو 100 فیصد یقینی بنایا جائے گا ۔

انٹری ٹیسٹ کوویڈ 19کی وبا کے دوران متعارف کروایا گیا تھا کیونکہ صوبے میں میٹرک اورانٹر کے امتحانات نہیں سکے تھے اس لیے معیار برقرار رکھنے کے لیے انٹری ٹیسٹ لیے گئے تھے ۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کا خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کیلئے فیسز میں 100 فیصد رعایت کا اعلان

یاد رہے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی پاکستان کی قدیم جامعات میں سے ایک  ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور  کا قیام 1864 میں عمل میں آیا تھا تاہم 2002 میں اسے یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی  کو مفکر پاکستان علامہ اقبال، مشہور و معروف شاعر  فیض احمد فیض ، صوفی تبسم ، ناصر کاظمی  سمیت  لاتعداد عظیم  شخصیات  بطور اساتذہ میسر آئے۔

متعلقہ تحاریر