بھارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کیسے آگے بڑھا اور پاکستان کیو ں پیچھے رہ گیا ؟
بھارتی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ پر مرکزی وزیر برائے آئی ٹی شری راجیو چندر شیکھر کی پروفائل میں بتایا گیا ہےکہ وہ ایم آئی ٹی ، متعدد امریکی یونیورسٹیز سے اپنی فیلڈ میں انتہائی تعلیم یافتہ ہیں جبکہ پاکستانی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن امین الحق کی تعلیم کے بارے میں ہماری وزارت آئی ٹی کچھ بھی بتانے کے قابل نہیں سوائے ان کی رہائشی پتے اور فون نمبرز

وزیراعظم شہباز نے سیلاب متاثرین کی امداد کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ کیلئے تیار کئے گئے ڈیش بورڈ کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی وجہ سے فلڈ ڈیش بورڈ کا افتتاح کرنے سے انکار کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دوران تقریب ریئل ٹائم ڈیش بورڈ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کا افتتاح کرٓنے سے انکار کرتے ہوئے اسے بہتر بنانے کی ہدایت کی ۔
یہ بھی پڑھیے
بھارتی نژاد گیتا گوپی ناتھ آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (اول ) تعینات
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے وزیراعظم شہباز شریف ڈیش بورڈ کا افتتاح کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ اسے بہتر کرلیں تاہم وزیر اعظم نے استدعا قبول نہیں کی ۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان ) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق گزشتہ چار سال سے اس عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔
سید امین الحق 2018 میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن بنے تاہم کمپیوٹر اور آئی ٹی کی تعلیم سے بہرہ مند نہیں ہیں۔

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر ان کی پروفائل میں صرف ان کے فون نمبرز اور مکان کے پتے درج ہیں جبکہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بھی ان کی پروفائل میں صرف یہی کچھ بتانا پسند کیا ہے ۔
دوسری جانب اپنے قیام سے پاکستان مخالف رویہ رکھنے والے بھارت میں ان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر کی پروفائل پر ان کی اپنی فیلڈ کی تمام تر تعلیمی قابلیت بتائی گئی ہے ۔
بھارتی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ پر مرکزی وزیر برائے آئی ٹی شری راجیو چندر شیکھر کی پروفائل میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایم آئی ٹی سے تعلیم یافتہ ایک الیکٹریکل انجینئرنگ ہیں۔

انہوں نے امریکی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرزکرچکے ہیں۔ شری راجیو نے ہارورڈ یونیورسٹی اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی، انٹیل یونیورسٹی سے آئی ٹی کی تعلیم حاصل کی ہے ۔
وہ اپنے شعبے میں ڈاکٹر آف سائنس کی ڈگری Visvesvaraya ٹیکنیکل یونیورسٹی سے حاصل کرچکے ہیں۔ انٹیل کی مائیکرو پروسیسر ٹیم میں سینئر ڈیزائن انجینئر کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں ۔
امریکا سے 1991 میں بھارت واپسی کے بعد انہوں نے بی پی ایل موبائل کی بنیاد رکھی جو کہ ہندوستانی ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والی ایک کمپنی ہے ۔
پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن اپنے وزیر آئی ٹی کے بارے میں اتنا بتا پاتی ہے کہ وہ کراچی اور اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ان کا فون نمبر ور مکان نمبر یہ ہے ۔









