طارق باجوہ وزیراعظم کے مشیر خزانہ مقرر، شہباز کابینہ کی پلاٹینم جوبلی مکمل

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی کابینہ سرکاری خزانہ پر بہت بوجھ ہے جبکہ 23 ارکان کے پاس کوئی قلمدان بھی نہیں ہے۔

وزیراعظم  نے سابق گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کو وزیراعظم کا مشیر خصوصی برائے خزانہ مقرر کردیا جن کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا۔اس طرح وفاقی کابینہ کی مجموعی تعداد 75 ہوگئی ہے،جن میں سے ایک وفاقی وزیر اور 29 معاونین میں سے 23 کے پاس تاحال کوئی قلم دان نہیں ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی کابینہ سرکاری خزانہ پر بہت بوجھ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے وفاقی کابینہ کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری ہے،جس کے تحت آج بدھ کے روز سابق گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کو معاون خصوصی برائے خزانہ مقرر کردیا گیا اور اس سلسلے میں حکومت نے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

ہمارے ہاتھ بندھے ہیں، ن لیگ کو زبردستی حکومت دی گئی، جاوید لطیف کا دعویٰ

کیا مریم نواز نااہلی کے خاتمے  پرانتخابی میدان میں عمران خان کا مقابلہ کرینگی؟

طارق باجوہ کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا۔ اس سے ایک ہفتے قبل وزیراعظم نے عرفان قادر ایڈووکیٹ کو معاون خصوصی مقرر کیا تھا۔

اسحاق ڈار اور عرفان قادر کی تقرریوں کے بعد مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت مخلوط حکومت کی وفاقی کابینہ کا حجم 74  ہوگیا تھا اور آج ہونے والی تقرری کے بعد کابینہ کا حجم مزید بڑھ کر 75  ہوگیاہے۔ وزیراعظم کی کابینہ میں 35 وفاقی وزرا،7 وزرائےمملکت 4 مشیر، 29 معاونین خصوصی شامل ہیں.

مفتاح اسماعیل اور جاوید لطیف سمیت 29 میں سے 23 کابینہ ارکان بغیر قلم دان کے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم نے عرفان قادر کو ایس اے پی ایم تعینات کر دیا۔ تازہ ترین اضافے کے ساتھ ہی کابینہ میں مجموعی طور پر 73 ارکان شامل ہو گئے۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے ستمبر میں رضا ربانی، ارشاد احمد خان، فیصل کریم کنڈی، مہیش کمار ملانی، فیصل کریم کنڈی، سردار سلیم حیدر، تسنیم احمد قریشی اور محمد علی شاہ باچا سمیت 8 معاونین خصوصی مقرر کیے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی بھاری بھرکم کابینہ کی تعداد 75 تک پہنچ چکی ہے۔

52 ارکان کابینہ کو تنخواہ ، گھر ، گاڑی اورسفری سہولیات سمیت لاکھوں روپے کی مراعات حاصل ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ 29 میں سے 23 معاونین خصوصی بغیر کسی قلمدان کے صرف عہدے اور مراعات کی مزے لے رہے ہیں۔حکومت نے انہیں وفاقی کابینہ کا حصہ تو بنادیا مگر انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان سے کیا کام لینا ہے؟۔

کابینہ میں شامل 5 معاونین خصوصی کا اسٹیٹس وفاقی وزیر اور 13 معاونین کا وزیر مملکت کے برابرہے ، 4 مشیروں کو بھی وفاقی وزیر کے برابر عہدہ اور مراعات دی گئی ہیں اور ایک وفاقی وزیر جاوید لطیف بھی قلمدان سے محروم ہیں۔

سیلری، الاونسز اینڈ پری ویلج ایکٹ 1975 کے مطابق ہر وفاقی وزیر کو 2 لاکھ جبکہ وزیر مملکت کو ایک لاکھ 80 ہزار تنخواہ ملتی ہے۔ اس علاوہ گھر، گھریلو الاونس، گاڑی، مینٹی نینس ، ریلوے، ائیر ٹکسٹس ، پرائیویٹ سیکرٹری، پرسنل اسسٹنٹ، اسٹینو گرافر، قاصد اور نائب قاصد کی سہولت کے ساتھ فلیگ بھی لگتاہے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کا موازنہ کیا جائے تو 10 اپریل 2022 کو عمران خان کابینہ کا حجم 56 تھا جس میں 29 وفاقی اور 4 وزراء مملکت، 6 مشیر اور 17 معاونین خصوصی شامل تھے جبکہ آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت وفاقی کابینہ میں وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تعداد قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل پارلیمنٹ کے کل ارکان کے 11 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

متعلقہ تحاریر