سیلاب زدہ پاکستان میں حکومت کو عمران خان کے لانگ مارچ اور سائفر کی فکر ستانے لگی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت وقت کی اولین ترجیح تو سیلاب زدگان کی بحالی ہونا چاہیے، مگر یہ لوگ عمران خان کے لانگ مارچ کے چکر میں سیلاب متاثرین کو بھولے بیٹھے ہیں۔
گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت وفاقی وزراء اور پی ڈی ایم کے سربراہان کا اجلاس ہوا ، جس میں سائفر اور پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ کو روکنے کے حوالے سے حکمت عملی میں غور کیا گیا ، سوال یہ ہے کہ خیبر پختون خوا ، پنجاب اور سندھ کے بیشتر حصے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ، حکومت وقت کی اولین ترجیح تو سیلاب زدگان کی بحالی ہونی چاہیے تھی مگر حکومت لانگ مارچ اور سائفر میں الجھ کر رہ گئی ہے۔
حکمران اتحادیوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے ، ساتھ ہی آڈیو لیکس کی تحقیقات کو تیز کرنے کے علاوہ سائفر یا ڈپلومیٹک کیبل کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے
حکمرانوں کا شکریہ جنہوں نے سائفر کو دوبارہ زندہ کردیا، عمران خان
25مئی کے مارچ میں دو غلطیاں ہوئیں ، ہم نے اپنے مخالفین کو جمہوری سمجھا، عمران خان
اجلاس میں حکمران اتحادیوں کے سربراہان نے فیصلہ کیا کہ ان تمام عناصر کو روکنے روکا جائے گا جو اسلام آباد پر چڑھائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور آئین و قانون کی حدود سے تجاوز کر کے حکومت گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سفارتی کیبل کے حوالے سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کے اجلاس میں سائفر کی اعلیٰ اختیاراتی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
پی ڈی ایم اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ قومی مفادات کے منافی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں گی ، جبکہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاملہ یہ ہے کہ تین چار ماہ پہلے یہ 12 جماعتی حکومتی اتحاد کہتا تھا کہ سائفر تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، جو سائفر تھا ہی تو پھر اس کے بارے میں اجلاس بلا بلا کر وقت کیوں ضائع کیا جارہا ہے ، اب تو ویسے بھی وزیراعظم ہاؤس سے وہ گم ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سمجھ یہ نہیں آرہی جو چیز تھی ہی نہیں ، حکومت کی تبدیلی میں اس کا کوئی حصہ نہیں تھا تو پھر میٹنگز میں اس کے حوالے سے کیا بحث ومباحثہ چل رہا ہے۔؟
انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ عمران خان نے ابھی لانگ مارچ کی تاریخ نہیں دی ہے ، کل بھی انہوں نے کہا تھا کہ میں ابھی تاریخ نہیں بتاؤں گا۔ جب لانگ مارچ کی ڈیٹ ہی نہیں ہے تو پھر فیصلہ کیا ہونے جارہا ہے۔ کس طرح سے آپ لانگ مارچ کو روکیں گے ، کیا بارہ جماعتیں مل کر کے سڑکوں پر آجائیں گی ، مطلب کیا کریں گیں۔؟
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ بارہ جماعتی اتحادی حکومت کی اولین ترجیح تو سیلاب زدگان کی بحالی ہونا چاہیے تھی مگر یہ کیا کہ یہ لوگ عمران خان کے لانگ مارچ کے چکر میں لگ کر انہیں (سیلاب متاثرین) کو بھولے بیٹھے ہیں جو بیچارے گذشتہ دو ماہ سے بےیارومددگار سڑک کنارے بیٹھے حکومت وقت کی امداد کا انتظار کررہے ہیں۔ جن کے سر پر نہ چھت ہے اور نہ ہی پیٹ میں روٹی۔ اب ساری صورتحال پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے اور کچھ ہمارے بس میں ہے ہی نہیں۔









