اسحاق ڈار کی مستقل ضمانت منظور ، ایک اور بڑا ریلیف مل گیا

عدالت نے استفسار  کیا کہ کیا نیب نے بھی اسحاق ڈار کے کوئی وارنٹ جاری کیے تھے؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ نیب نے وارنٹ جاری کیے تھے لیکن وہ معطل ہوچکے ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے آمدن سے زائد اثاثہ جات پر نیب ریفرنس میں وارنٹِ گرفتاری منسوخ کر دیے۔ عدالت نے حاضری سے مستقل استثنیٰ اور جائیداد ضبطی کے خلاف درخواست پر نیب سے 12 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی سیاست میں بدزبانی اور بازاری زبان کااستعمال عام ہوگیا

مذاکرات کامیاب: حکومت نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو بڑا ریلیف دے دیا

وفاقی وزیر خزانہ اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری مستقل طور پر منسوخ کئے جائیں کیوں کہ عدالت نے اسحاق ڈار کی حاضری کے لیے یہ وارنٹس جاری کئے تھے۔

احتساب عدالت نے اس بارے میں نیب سے موقف دریافت کیا تو پبلک پراسیکیوٹر نے مستقل وارنٹ منسوخ کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا وارنٹ صرف اسحاق ڈار کی حاضری کے لیے ہی تھا۔

اسحاق ڈار کےوکیل نے احتساب عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل اسحاق ڈار کی جائیداد ضبطگی کا حکم بھی واپس لیا جائے کیونکہ اسحاق ڈار عدالت میں پیش ہو گئے ہیں۔

عدالت نے اسحاق ڈار کو سات اکتوبر تک پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے استفسار  کیا کہ کیا نیب نے بھی اسحاق ڈار کے کوئی وارنٹ جاری کیے تھے؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ نیب نے وارنٹ جاری کیے تھے لیکن وہ معطل ہوچکے ہیں۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے عدالت میں حاضری سے مستقل استثنیٰ اور جائیداد ضبطی کے خلاف بھی درخواستیں دائر کر دیں۔جن پر عدالت نے نیب سے 12 اکتوبر تک جواب طلب کر لیا اور

اسحاق ڈار کے وارنٹِ گرفتاری منسوخ کر دیے،عدالت نے انہیں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

 کیس کی سماعت  12 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ تحاریر