پی ٹی آئی کا متوقع لانگ مارچ کو روکنے کیلئے 700 ملین روپے خرچ کردیئے
حکومت نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع لانگ مارچ کو روکنے کیلئے 700 ملین روپے کے اخراجات کر ڈالے، انتظامیہ نے 75 ملین کے آنسو گیس شیل اور ربڑ کی گولیاں بھی خریدلیں، پلان کے تحت سیلولر اور میٹرو سروسز کو معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے

وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع لانگ مارچ کو روکنے کے لیے 700 ملین روپے خرچ کردئیے۔ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے ریہرسل اور تیاریوں کے کیلئے خطیر اخراجات کیے جارہے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو کنٹینرسٹی میں تبدیل کردیا گیا ہے جس سے ریڈ زون اور دیگر سرکاری عمارتوں کی طرف جانے والی کئی سڑکیں بلاک ہوگئیں ہیں جبکہ پولیس کی مدد کیلئے فوجی اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری کو بھی طلب کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کا رواں ماہ لانگ مارچ کا اشارہ، معاملات طے نہ ہونے پر انتشار بڑھے گا ؟
اسلام آباد پولیس کے مطابق لانگ مارچ روکنے کیلئےکم از کم 60 ہزار آنسو گیس کے شیل جوکہ 75 ملین روپے سے خریدے گئے ہیں جبکہ 40 ہزار ربڑ کی گولیاں کا انتظام کیا گیا ہے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ پولیس، رینجرز کے تقریباً 25 ہزار اہلکار بھی امن و امان کی تعیناتی کے لیے بلائیں جائیں گے جبکہ ایف سی کی مدد بھی طلب کی جائے گی ۔
کچھ فوٹیجز میں دیکھاگیا ہے کہ کنٹینرز فیض آباد، جی ٹی روڈ، سنگجانی میں نیو مارگلہ روڈ، فتح جنگ روڈ پر نوغازی مزار، نوگازی فیصل ٹاؤن، 26 نمبر چونگی اور دیگر علاقوں میں لگائے جارہے ہیں۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ ، اسلام آباد میں پولیس ، ایس ایف سی اور رینجرز کی مشقیں شروع ، پتھراؤ ، آنسو گیس ، غلیل سے مظاہرین کو روکنے اور گرفتار کرنے کی شارٹ مشقیں کرائی جارہی ہیں @ICT_Police @SdqJaan @PTIofficial @dcislamabad pic.twitter.com/YYcJCeBqQy
— Shakeel Qarar (@Qarar009) October 7, 2022
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے مارچ کا مقابلہ کرنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔
گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی کہ وفاقی حکومت نے مینٹیننس آف پبلک آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت عمران خان کو گھر میں نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،
حکومت نے پورے وفاقی دارالحکومت کو ایک ہفتے کے لیے کنٹینرز سے سیل کرنے اور نئے پلان کے تحت سیلولر سروسز کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں میٹرو بس سروس بھی معطل رہے گی جبکہ شہر میں داخلے کی اجازت دینے کیلئے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات چیک کی جائیں گی ۔
حکومت لانگ مارچ کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور کیٹرنگ سروسز اور عوامی اجتماعات کے لیے ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والی دکانوں پر پابندی عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے تاحال اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا اور بہت جلد حیران کن اعلان کرنے کا عندیہ دے دیا۔









