ملالہ یوسفزئی کا دادو کی تحصیل جوہی کا دورہ، سیلاب متاثرین سے ملاقاتیں

ملالہ یوسفزئی نے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC) اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (RDF) کے نمائندوں سے ملاقات کی اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی تفصیلات حاصل کیں۔

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی بدھ کے روز ضلع دادو کی تحصیل جوہی کا دورہ کیا اور حالیہ سیلاب سے تباہ حال بے گھر افراد دے ملاقات کی۔

جوہی تعلقہ حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔ تاہم یہاں کے مکینوں نے شہر کو بچانے کے لیے اس کے چاروں اطراف ایک "رنگ ڈائک” بنا دیا تھا تاکہ سیلابی پانی شہر میں داخل نہ ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں مہنگائی،بیروزگاری بڑھے گی،شرح نمو 3.5فیصد رہے گی، آئی ایم ایف

سکھر میں وجہ سے مچھروں کی بہتات، مچھر دانی بیچنے والی کی چاندی ہوگئی

سخت ترین سیکورٹی میں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے ہیلی کاپٹر کو آئل فیلڈ کے ہیلی پیڈ پر اتارا گیا ، اور پھر انہیں 15 منٹ کی ڈرائیو پر ابراہیم چانڈیو گاؤں کے قریب جوہی کے کھیر موری علاقے میں لے جایا گیا۔

اس موقع پر سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ ، سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے علاوہ گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ملالہ یوسفزئی نے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (IRC) اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (RDF) کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جو صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

Malala Yousafzai's visit to Dadu district

آر ڈی ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اشفاق سومرو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی تنظیم پچھلے 45 دنوں سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اشفاق سومرو نے ریلیف آپریشن کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔

آر ڈی ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اشفاق سومرو کی سربراہی میں ملالہ یوسفزئی نے ایک محفوظ مقام پر خواتین اور بچوں سے ملاقات کی۔

اشفاق سومرو نے میڈیا کو بتایا کہ ملالہ یوسفزئی نے جوہی کے مقام پر تقریباً گھنٹے گزارے اور بچوں و خواتین سے ملاقاتیں کیں ، ان کے مسائل کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کیں۔

Malala Yousafzai's visit to Dadu district

اشفاق سومرو نے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی کے دورے کے موقع پر سخت ترین سیکورٹی کے اقدامات کیے گئے تھے۔

آئی آر سی کے ممبر آصف حیات نے بھی ملالہ یوسفزئی سے ملاقات کی اور انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا کہ کس طرح سے ان کی تنظیم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حکومت سندھ اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر لوگوں کو ریلیف پہنچا رہے ہیں۔

آئی آر سی کے ممبر آصف حیات نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ ان کی تنظیم میرپورخاص، بدین اور سانگھڑ کے اضلاع میں مصروف عمل ہے جو سیلاب سے بہت زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Dawn Today (@dawn.today)

دریں اثناء وزیر تعلیم نے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے امدادی اقدامات کی تفصیلات ان کے ساتھ شیئر کیں۔

وزیراعلیٰ کے میڈیا کنسلٹنٹ رشید چنا کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق، وزیر تعلیم نے انہیں اسکولوں اور بچوں کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں 12000 اسکولوں میں 20 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کی تعلیم بہت زیادہ متاثر ہورہی ہے ، جبکہ سیلابی پانی ابھی تک 13 سے زائد اضلاع میں کھڑا ہے۔

میڈیا کنسلٹنٹ کی جانب سے شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق اس موقع پر ملالہ یوسفزئی نے بچوں کی تعلیم پر سیلاب کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ سیلاب سے متاثرہ خواتین نے ملالہ یوسفزئی کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے مین نارا ویلی ڈرین (MNVD) کا بھی دورہ کیا جو مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔

متعلقہ تحاریر