وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی جیو نیوز پر عمران خان کو گالی، پیمرا خاموش تماشائی بن گیا
پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد میر کے سابق وزیراعظم کے تخت بھائی میں کیے گئے خطاب سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ ہتھے سے اکھڑ گئے، عمران خان کو گالی دے ڈالی، میزبان نے چہرے پر ناگوار تاثرات لانے کےعلاوہ کچھ نہیں کیا، پیمرا تاحال خاموش، سوشل میڈیا کی شدید تنقید

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے جیو نیوز کے مشہور پروگرام کیپیٹل ٹاک میں سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو گالی دے ڈالی۔
پروگرام کے میزبان حامد میر وزیرداخلہ کی ہرزہ سرائی پر صرف چہرے پر ناگوار تاثرات ہی لاسکے، پروگرام کے پروڈیوسر بروقت مداخلت کرکے وزیرداخلہ کی گالی سنسر کرنے میں ناکام ر ہے۔ٹوئٹر صارفین اور صحافیوں نے پیمرا سے چینل انتظامیہ اور میزبان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
اے آر وائے کے بعد بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ بھی پیمرا کے نشانے پر آگیا
عمران خان کی براہ راست تقاریر پر پابندی سے متعلق پیمرا کا نوٹی فکیشن کالعدم
گزشتہ روز جیوز نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے رانا ثنا اللہ کو بذریعہ لنک اپنے پروگرام میں مدعو کیا اور سابق وزیراعظم عمران خان کے تخت بھائی میں کیے گئے خطاب میں استعمال کیے گئے سخت لہجے کا ذکر کرتے ہوئے انہیں عمران خان کے خطاب کا کچھ حصہ بھی دکھایا۔
اللہ معاف کرے
ایسا ہے اس ملک کا وزیر داخلہ! pic.twitter.com/ZZSzNdjpHL— Dr. Iftikhar Durrani (@IftikharDurani) October 13, 2022
حامد میر نے راناثنااللہ سے سوال کیا کہ این آر او کون دے رہا ہے اور عمران خان کس کو غدار کہہ رہے ہیں؟راناثنااللہ نے سوال کا جواب دینے کے بجائے اپناروایتی جارحانہ انداز اپنایا اور کہا یہ شخص اپنے ہوش و حواس کھوبیٹھا ہے اور اب اس کا وہی انجام ہوگا جو باؤلے کتے کا ہوتا ہے ، جو باؤلہ ہوجاتاہے۔
وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی اس ہرزہ سرائی پر پروگرام کے میزبان حامد میر صرف چہرے پر ناگوار تاثرات ہی لاسکے، انہوں نے نہ تو رانا ثنااللہ کو ٹوکا اور نہ ہی ان کی ٹیم نے راناثنااللہ کی آواز کو سنسر کیا۔
جیو نیوز کے سابق اینکر طارق معین صدیقی نے پروگرام کا یہ کلپ شیئر کرتے ہوئے پیمرا کو مخاطب کرکے سوال کیا کہ کیا پیمرا میزبان،چینل اور اس زبان کا نوٹس لے گا؟ٹوئٹر صارفین نے نازیبا زبان استعمال کرنے پر راناثنا اللہ اور چینل کیخلاف کارروائی نہ کرنے پیمرا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
any action @reportpemra against the host, channel and language? https://t.co/kBMCI9uKPT
— Tariq Mateen (@tariqmateen) October 13, 2022
طارق معین صدیقی کے سوال پر ایک صارف نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھاکہ طارق بھائی کیا آپ کو معلوم نہیں کہ پیمرا صرف بول اور اے آر وائی کیخلاف نوٹس لیتا ہے؟
طارق بھائی پیمرا صرف 🅐🅡🅨 ,, 🅑🅞🅛 کے خلاف ہی ایکشن لیتا ہے .. بھول گئے آپ شاید .. 😉
— محمّد شیراز خان 🇵🇰 (@MsheerazkKhan) October 13, 2022
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں فواد چوہدری نے پختونخوں سے متعلق بیہودہ مذاق کیا تھا جس پر پیمرا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موثر تاخیری نظام لاگو کرنے میں ناکامی پر چینل کی انتظامیہ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا اور 7 روز میں جواب طلب کیا تھا۔
— Report PEMRA (@reportpemra) October 6, 2022
واضح رہے کہ راناثنااللہ کی نازیبا گفتگو کو سنسر کرنے میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ جیونیوز کا تکنیکی عملہ بھی موثر تاخیری نظام پر عملدرآمد نہیں کررہا ، دلچسپ امر یہ ہے کہ جیوز نے رات ایک بجے پروگرام نشرر مکرر کیا تو بھی رانا ثنااللہ کے اس قابل اعتراض جملے کو سنسر نہیںں کیا۔تاہم پیمرا نے ملک کے وزیرداخلہ کی جانب سے کئی گئی نازیبا گفتگو کا تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا ہے جو پیمرا کی جانب داری کا واضح ثبوت ہے۔









