آمدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس: نیب کا شہزاد اکبر کو طلبی کا نوٹس
سابق معاون خصوصی برائے احتساب نے نیب کے نوٹس کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے وہ اس کو تفصیل سے جواب دیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں 21 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔
نیب کی طرف سے جاری نوٹس میں مرزا شہزاد اکبر کو 21 اکتوبر کو اپنے جوابات کے ساتھ ڈپٹی ڈائریکٹر کمپلینٹ ویریفیکیشن سیل نیب عثمان مجید کے لاہور میں واقع دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
باغوں کا شہر لاہور یا جرائم کا گڑھ، 9ماہ میں 12ہزار ڈکیتی کی وارداتیں رپورٹ
پرانی ووٹر لسٹوں پر ضمنی انتخابات کا انعقاد، کیا مرحومین ووٹ ڈالنے آسکتے ہیں؟
نیب کی جانب سے طلبی کے نوٹس کے ساتھ 22 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھی بھجوایا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے سوالنامے کو مذاق قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سوال نامے کا تفصیلی جواب دیں گے۔
شہزاد اکبر لکھتے ہیں کہ "امپورٹڈ حکومت کے ہاتھوں مجبور لٹی پٹی نیب کا مضحکہ خیز نوٹس جو میڈیا سے معلوم ہوا۔ سوالنامہ محض ایک مذاق لگتا ہے۔”
امپورٹڈ حکومت کے ہاتھوں مجبور لٹی پٹی نیب کا مضحکہ خیز نوٹس جو میڈیا سے معلوم ہوا
سوالنامہ محض ایک مذاق لگتا ہے
رنگ روڈ، چینی اور پیٹرولیم کمیشن سے متعلقہ مضحکہ خیز سوالات جنکا انشاللہ تفصیلاؔ جواب دونگا
منی لانڈرنگ والے جب حکمران ہوں تو ایسا اندھا انتقام زدہ احتساب ہوتا ہے https://t.co/0cI3WmWSJn— Mirza Shahzad Akbar (@ShazadAkbar) October 15, 2022
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "رنگ روڈ ، چینی اور پیٹرولیم کمیشن سے متعلقہ مضحکہ خیز سوالات جنکا ان شاء اللہ تفصیلاؔ جواب دونگا۔
حکومت پر طنز کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے مزید لکھا ہے کہ "منی لانڈرنگ والے جب حکمران ہوں تو ایسا اندھا انتقام زدہ احتساب ہوتا ہے۔”
اس سے قبل اگست میں وفاقی کابینہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہزاد اکبر سمیت 10 نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دی تھی۔
شہزاد اکبر اور بیرسٹر ضیاء المصطفیٰ نسیم ان 10 افراد میں شامل تھے جنہیں وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالا تھا جب کہ حکومت نے نو فلائی لسٹ سے 22 نام نکالنے کی بھی منظوری دی تھی۔









