برطانیہ میں نئے انتخابات کے مطالبا ت سے پاکستان کو سبق سیکھنا ہوگا
برطانوی وزیراعظم لزٹرس کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو برطانیہ میں نئے انتخابات کا مطالبہ بھی سامنے آگیا، برطانوی شہریوں نے ملک میں نئے الیکشن کا مطالبہ کردیا جبکہ پاکستان میں بھی مسلسل نئے انتخابات کا مطالبات سامنے آرہے ہیں مگر اتحادی حکومت نے اسے مسترد کردیا۔ پی ڈی ایم نے کہا کہ نئے الیکشن عمران خان کی دھمکی پر نہیں ہماری مرضی پر ہونگے

برطانیہ کی وزیراعظم لزٹرس نے ملک میں بڑھتے سیاسی انتشارکی وجہ سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کااعلان کیا توبرطانوی شہریوں نے ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے ۔
برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے 6 ہفتے قبل وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا تاہم ملک میں سیاسی انتشار کی وجہ سے انہوں نے اپنے عہدے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو برطانیہ میں نئے انتخابات کا مطالبہ بھی سامنے آگیا ۔
یہ بھی پڑھیے
وزیر داخلہ و خزانہ کے استعفے کے بعد برطانوی وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان
لزٹرس کے استعفے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل برطانوی وزیرداخلہ سویلا بریورمین نے وزارت داخلہ سے استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ اس سے قبل وزیرداخلہ سے قبل وزیر خزانہ بھی مستعفی ہوچکے تھے ۔
موجودہ برطانوی وزیراعظم لزٹرس سے قبل بورس جانسن بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تھے۔ بورس جانسن پر کورونا قوائد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے تاہم کہا جاتا ہے وہ بھی سیاسی انتشار کی وجہ سے حکومت سے الگ ہوئے تھے ۔
دوسری جانب برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والے پاکستان میں بھی سیاسی انتشار دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو عدم اعتماد کے بعد گھر بھیجا گیا تو ملک میں نئے انتخابات کے مطالبات سامنے آئے ۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ دہرایا تھا تاہم موجودہ اتحادی حکومت نے ان کے مطالبے پر توجہ دینے کے بجائے اسمبلی کی مدت پوری کرنے کا اعلان کیا تھا ۔
رواں ماہ کے آغاز میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر نئے الیکشن کا مطالبہ دہرایا تھا اور نئے انتخابات کی جانب سے نہ جانے پر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کااعلان کیا تھا ۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے نئے الیکشن کے مطالبے کو حکومتی اتحاد کی جانب سے مسترد کیا گیا۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے نئے الیکشن کا فیصلہ اتحادی جماعتیں کریں گی ۔
یہ بھی پڑھیے
عوام باشعور ہوگئی اب اسٹیبلشمنٹ سیاسی انجینئرنگ نہیں کرسکتی، عمران خان
حکومتی اتحادی جماعتوں نے کہا کہ نئے انتخابات عمران خان کی دھونس و دھمکی پر نہیں بلکہ حکومت کی مرضی سے ہونگے جبکہ دوسری جانب سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئے الیکشن ملک کی ضرورت ہیں۔
سیاسی امور کے تجزیہ نگاروں نے کہا کہ برطانیہ میں نئے انتخابات کے مطالبے پر پاکستان کو سبق سیکھنا ہوگا بجائے اس کے ملک مزید سیاسی انتشار کا شکار ہو اور ملک کی معاشی صورتحال مزید بگڑ جائے ۔









