فیٹف پر قانون سازی کے مخالفین حکومتی ارکان کریڈٹ لینے میں آگے آگئے

حکومتی اتحادی پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی حکومت کے دوران متعلقہ قانون سازی کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹنگ کا کریڈٹ  لینے کے لیے آگے آگئے، اس وقت کی اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کو ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا تھا

پاکستان تحریک انصاف کے دورحکومت میں فیٹف پر قانون سازی کے دوران ایوان کا بائیکاٹ کرنے والے حکمران اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) اور پیپلزپارٹی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)  کی گرے لسٹ سے نکلنے کا سہرا اپنے سر لے لیا ۔

گزشتہ روز منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں ڈالا تھا ۔

یہ بھی پڑھیے

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا

حکومتی اتحادیوں اور پیپلزپارٹی نے پاکستان نےایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹنگ میں شامل ہونے کا سہرا اپنے سر سجالیا تاہم  قانون سازی کے وقت یہ اتحاد  متعلقہ بلز کی شدید مخالفت کرتا رہا ہے ۔

وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے کچھ ردعمل یہ ہیں:

اگست 2020 میں سینیٹ نے جہاں اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی، نےفیٹف سے متعلقہ دو بلوں کو مسترد کر دیا جن میں انسداد منی لانڈرنگ (دوسری ترمیم) بل اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) وقف املاک بل شامل ہیں جنہیں منظور کیا گیا تھا۔

ستمبر کے آخر میں پی ٹی آئی کی سابق  ​​حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق تین اہم قوانین منظور کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی جو اپوزیشن کے احتجاج کے باعث متاثر ہوئی تھی۔

اس وقت کی اپوزیشن  نے اسے ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا تھا ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو "پارلیمانی اصولوں کو پامال کرنے اور قانون سازی کو بلڈوز کرنےپر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔جلد بازی میں قانون سازی نے حکومت کو عوام بالخصوص ان کے سیاسی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا بلا روک ٹوک اختیار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے قانون سازی کے پہلے مسودے پر بحث و مباحثہ کی اجازت تک نہیں دی اور مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کو بھی بولنے کی اجازت دینے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہباز  شریف نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ سوچنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ اس طرح کے ناقابل قبول طرز عمل کو اختیار کرنے کے لیے کیا اقدام کیا جائے، جس نے اپوزیشن کو مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کا سہرا اپنے سر لیا اور کہا کہ ملک نے اکتوبر 2018 سے مارچ 2022 تک ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے آئٹمز کو مکمل کیا۔

 پی ٹی آئی رہنماؤں کے کچھ ردعمل یہ ہیں:

واضح رہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں ڈالا تھا اور عالمی مالیاتی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے 34 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا۔

فیٹف اور  ایشیا پیسیفک گروپ کے 15 رکنی مشترکہ وفد نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک پاکستان کا آن سائٹ دورہ کیا تاکہایف اے ٹی ایف کے ساتھ کیے گئے 34 نکاتی ایکشن پلان پر ملک کی تعمیل کی تصدیق کی جا سکے۔

ایف اے ٹی ایف نے رواں سال جون میں تصدیق کی تھی کہ پاکستان نے تمام 34 نکات پر عمل درآمد مکمل کر لیا ہے۔

متعلقہ تحاریر