فیٹف پر قانون سازی کے مخالفین حکومتی ارکان کریڈٹ لینے میں آگے آگئے
حکومتی اتحادی پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی حکومت کے دوران متعلقہ قانون سازی کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹنگ کا کریڈٹ لینے کے لیے آگے آگئے، اس وقت کی اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کو ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا تھا

پاکستان تحریک انصاف کے دورحکومت میں فیٹف پر قانون سازی کے دوران ایوان کا بائیکاٹ کرنے والے حکمران اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) اور پیپلزپارٹی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کا سہرا اپنے سر لے لیا ۔
گزشتہ روز منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں ڈالا تھا ۔
یہ بھی پڑھیے
ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا
حکومتی اتحادیوں اور پیپلزپارٹی نے پاکستان نےایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹنگ میں شامل ہونے کا سہرا اپنے سر سجالیا تاہم قانون سازی کے وقت یہ اتحاد متعلقہ بلز کی شدید مخالفت کرتا رہا ہے ۔

وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے کچھ ردعمل یہ ہیں:
I would particularly commend the role & efforts of Foreign Minister Bilawal Bhutto, Army Chief General Qamar Javed Bajwa and their teams & all political parties for putting up a united front to get Pakistan out of the grey list. Alhumdulillah! https://t.co/LkX5tupMQe
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 21, 2022
Congratulations to the people of Pakistan. Pakistan has officially been removed from the FATF ‘grey list’. Pakistan Zindabad.
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) October 21, 2022
Heartiest congratulations to the Nation on removal of Pakistan’s name today from the FATF’s “grey list”.
Efforts of the civil-military team under the leadership of PM @CMShehbaz in achieving this goal are highly commendable.
Pakistan Zindabad 🇵🇰— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) October 21, 2022
Pakistan has MA exited FATF Grey List. This has been a long and arduous journey that has only been made possible through strong political ownership across the political spectrum. It shows Pakistan can achieve much when we work together for Pakistan's interest. pic.twitter.com/AUWZcXW4l8
— Hina Rabbani Khar (@HinaRKhar) October 21, 2022
اگست 2020 میں سینیٹ نے جہاں اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی، نےفیٹف سے متعلقہ دو بلوں کو مسترد کر دیا جن میں انسداد منی لانڈرنگ (دوسری ترمیم) بل اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) وقف املاک بل شامل ہیں جنہیں منظور کیا گیا تھا۔

ستمبر کے آخر میں پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق تین اہم قوانین منظور کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی جو اپوزیشن کے احتجاج کے باعث متاثر ہوئی تھی۔
اس وقت کی اپوزیشن نے اسے ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا تھا ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو "پارلیمانی اصولوں کو پامال کرنے اور قانون سازی کو بلڈوز کرنےپر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔جلد بازی میں قانون سازی نے حکومت کو عوام بالخصوص ان کے سیاسی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا بلا روک ٹوک اختیار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے قانون سازی کے پہلے مسودے پر بحث و مباحثہ کی اجازت تک نہیں دی اور مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کو بھی بولنے کی اجازت دینے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ سوچنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ اس طرح کے ناقابل قبول طرز عمل کو اختیار کرنے کے لیے کیا اقدام کیا جائے، جس نے اپوزیشن کو مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کا سہرا اپنے سر لیا اور کہا کہ ملک نے اکتوبر 2018 سے مارچ 2022 تک ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے آئٹمز کو مکمل کیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے کچھ ردعمل یہ ہیں:
From October 2018 till March 2022, Pakistan completed all action items relating to FATF dual scrutiny. Credit goes to our fantastic team of officers in center & provinces from an array of govt divisions. pic.twitter.com/nodKUIDhaQ
— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) October 21, 2022
پاکستانی قوم کو FATFگرے لسٹ سے نکلنے پر مبارکباد اس کامیابی کا سہرا عمران خان دور حکومت کو جاتا ہے عمران خان کی ٹیم نے انتھک محنت اور مطلوبہ اہداف پر نیک نیتی اور محنت سے کام کیا آج اس عظیم لیڈر کے خلاف تمام قوتیں یکجا ہوکر میدان میں ہیں انشاءاللہ کپتان کا 🇵🇰 ہرمشکل سے سرخرو ہوگا
— Imran Ismail (@ImranIsmailPTI) October 21, 2022
یہ اُس تاریخی دن کی تصویر ہے جب میں نے بطور مشیرِ پارلیمانی امور، وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر FATF کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے سے متعلق بلز پارلیمنٹ میں پیش کئے۔ امپورٹڈ وزیراعظم اور درباریوں نے کھڑے ہوکر اِنہی بلز کی مخالفت کی۔ بھولنا مت، پاکستانیو! pic.twitter.com/BT5vfSEtC4
— Babar Awan (@BabarAwanPK) October 21, 2022
واضح رہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں ڈالا تھا اور عالمی مالیاتی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے 34 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا۔
فیٹف اور ایشیا پیسیفک گروپ کے 15 رکنی مشترکہ وفد نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک پاکستان کا آن سائٹ دورہ کیا تاکہایف اے ٹی ایف کے ساتھ کیے گئے 34 نکاتی ایکشن پلان پر ملک کی تعمیل کی تصدیق کی جا سکے۔
ایف اے ٹی ایف نے رواں سال جون میں تصدیق کی تھی کہ پاکستان نے تمام 34 نکات پر عمل درآمد مکمل کر لیا ہے۔









