خواجہ سرا گل چاہت کا خانہ کعبہ میں ہراسانی کا نشانہ بنائے جانےکا دعویٰ

پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت نے اپنے ایکوڈیو پیغام میں روتے ہوئے کہا کہ ہمیں اللہ کے گھر اور نبی ﷺ کے در پر ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، گل چاہت نے ایک سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پوسٹ کی جس میں وہ سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنے اوپر بیتے بدترین  واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں

سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت نے ہراسانی کا نشانہ بننے کے بعد روتے ہوئے اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ ہمیں اللہ کے گھر میں بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں مشہور پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت کو نا معلوم افراد کی جانب سے خانہ کعبہ  میں ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا جس پر  انہوں نے کہا کہ اللہ کے گھر میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرانس جینڈر ایکٹ پر نظرثانی کرکےاسکا نام خواجہ سرا ایکٹ رکھاجائے، ماریہ بی

مشہور پاکستانی خواجہ سرا گل چاہت جوکہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں موجود ہیں انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جس پر ان کا ضبط کا بندھن ٹوٹ  گیا ۔

گل چاہت نے ایک سوشل میڈیا پرایک وڈیو پوسٹ کی جس میں وہ سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنے اوپر بیتے بدترین واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں رب کے گھر میں ہراساں کیا جاتا ہے ۔

گل چاہت نے سخت اضطراب اور بے چینی سے اللہ سے شکوہ  کرتے ہوئے کہا کہ "اے رب کریم ہمیں ایسا کیوں بنایا ۔  اللہ کریم ہمیں تیرے گھر   اور  تیرے محبوب ﷺ کے در  پر  زلیل کیا جارہا ہے ، ہم کہاں جائیں؟۔

صحافی رحمان بونیری کی جانب سے ٹوئٹر پر گل چاہت کی وڈیو شیئر کی گئی تو اس پر سوشل میڈیا صارفین نے اپنی رائے کا  اظہار کرتے ہوئے اسے سراسر غیرانسانی سلوک قرار دیا ۔

ابراہیم جمیل نامی ٹوئٹر صارف نے  کہا کہ اگر یہ بات سچ ہے۔ تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ یہ بات بہرحال سچ ہے۔ کہ خواجہ سرا لوگوں کو ہمارا معاشرہ قبول نہیں کرتے۔

انہوں نے لکھا کہ  خواجہ سراہوں کو ان کے والدین اور گھر والے  تک قبول نہیں کرتے۔ یہ ہمارے معاشرے کی انتہائی نامناسب، غیر اسلامی اور قابل مذمت چہرہ ہے۔

ظہوریوسفزئی نامی ٹوئٹرہینڈل سے گل چاہت کو مشورہ دیا گیا کہ کسی غیرمسلم ملک منتقل ہوجائیں کیونکہ وہاں کسی کے پاس اتنا وقت خواجہ سراہوں پر تنقید کرنے کے لیے ۔

ان کا کہنا تھا کہ  غیر مسلم ممالک  کے لوگوں  کی ذہنیت اور سوچ ہماری طرح  تنگ نظر  نہیں  ہے  اور نہ ہی وہ فارغ العقل لوگ ہیں ۔ہمارے معاشرے کا ہر بندہ گل چاہت ہے لیکن پردے کے پیچھے ۔

متعلقہ تحاریر