عمران خان پر حملے کے بعد سینئر صحافیوں کی پھرتیوں پر بھی سوالات اٹھ گئے

حامد میر،غریدہ فاروقی ،منیب فاروق اور وقار ستی  نے ٹی وی چینلز پر گرفتار ملزم کا بیان نشر ہونے سے قبل ہی اس کے تمام کوائف سوشل میڈیا پر شیئر کردیے،سلیم صافی نے حملے سے کئی گھنٹے قبل  موصول ہونے والا آئی ایس پی آر کا مذمتی بیان ٹوئٹر پر شیئر کردیا۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کےبعد سینئر صحافیوں  حامد میر،سلیم صافی، غریدہ فاروقی ،منیب  فاروق اور وقار ستی کی پھرتیوں پر بھی سوالات اٹھ گئے۔

حامد میر،غریدہ فاروقی ،منیب فاروق اور وقار ستی  نے ٹی وی چینلز پر گرفتار ملزم کا بیان نشر ہونے سے قبل ہی اس کے تمام کوائف سوشل میڈیا پر شیئر کردیے جبکہ جیو نیوز کے پروگرام جرگہ کے میزبان سلیم صافی نے توانتہا ہی کردی۔سلیم صافی نے حملے سے کئی گھنٹے قبل  موصول ہونے والا آئی ایس پی آر کا مذمتی بیان ٹوئٹر پر شیئر کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس بےاثر، عمران خان پر حملہ آور ملزم کا دوسرا بیان بھی باہر آگیا

عمران خان کا قاتلانہ حملے کے باوجود جھکنے سے انکار، آج پھر لانگ مارچ کا اعلان

جمعرات کی شام تقریباً 4 بجکر  20 منٹ پروزیرآباد میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد سینئر صحافی حامد میر،وقار ستی ،منیب فاروق اور غریدہ فاروقی نے گرفتار حملہ آور کا وڈیو بیان ٹیلی وژن چینلز پر نشر ہونے سےقبل ہی اسکے تمام کوائف اپنے ٹوئٹر ہینڈلز پر شیئر کردیے۔

سینئر صحافی حامد میر نے سب سے پہلے 5بجکر22 منٹ پر اپنے ٹوئٹ میں حملہ آور کے کوائف کی تفصیلات شیئر کیں۔انہوں نے بتایای کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کا نام محمد نوید ولد محمد بشیر  ہے، اس کی ذات آرائیں ہے اور ضلع وزیرآباد کے علاقے سودھرا کا رہا ئشی ہے۔ملزم کو 9 ایم  ایم پستول اور 2 خالی میگزین کے ساتھ گرفتار کیاگیا ہے۔

حامد میر کے بعد  آگے پیچھے وقار ستی،منیب فاروق اور غریدہ فاروقی نے بھی من و عن یہی تفصیلات اپنے ٹوئٹر ہینڈلز پر شیئر کردیں تاہم غریدہ فاروقی اور وقار ستی نے ملزم کو رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کا محافظ قرار دیا۔

سوشل میڈیا صارفین  اور تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ ملزم پنجاب پولیس کی تحویل میں تھا تواسکے کوائف  تمام صحافیوں کو ایک ساتھ  کس نے ارسال کیے؟کون سی قوت اس اہم ترین کیس کو خراب کرنا چاہتی تھی؟

دوسری  جانب جیو نیوز کے اینکر سلیم صافی نےآئی ایس پی آر کے مذمتی بیان کا اسکرین شاٹ  اتنی عجلت میں ٹوئٹ کیا کہ اس پر درج وقت ہذف کرنا ہی بھول گئے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عمران خان پر حملہ شام تقریباً4 بجکر20 منٹ پر ہوا جبکہ سلیم صافی نے آئی ایس پی آر کا جو مذمتی بیان اپنے ٹوئٹ میں شیئر کیا ہے اس پر 1:48 pmکا وقت درج ہے۔ بعد ازاں سلیم صافی نے وضاحت کی کہ میں سالانہ چھٹی گزارنے جس ملک آیا ہوں ، وہاں کے وقت اور پاکستان میں پانچ گھنٹے کا فرق ہے۔

متعلقہ تحاریر