سابق وزرائے اعظم بے نظیر اور عمران خان پر قاتلانہ حملوں میں یکسانیت

پیپلزپارٹی کی سربراہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن پہنچیں تو کراچی میں 18 اکتوبر2007 کو ان کی ریلی پر فائرنگ کی گئی جبکہ اسی طرح کا واقعہ گزشتہ روز پیش آیا جس میں پی ٹی آئی کی ریلی پر فائرنگ کرکے عمران خان کو نشانہ بنایا گیا، کراچی میں بچنے والی بے نظیر راولپنڈی حملے میں جان کی بازی ہار گئیں تھیں

پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ  سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے میں یکسانیت پائیں گئیں ہیں تاہم کراچی حملے میں محفوظ  رہنے والی بے نظیر پنڈی حملے میں جان کی بازی ہارگئیں تھی جبکہ عمران خان خوش قسمتی سے محفوظ رہے ۔

پیپلزپارٹی کی مقتول رہنما سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور تحریک انصاف  کے سربراہ سابق وزیراعظم عمران  پر قاتلانہ حملوں میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے تاہم بے نظیر راولپنڈی  حملے میں جاں بحق ہو گئیں تھیں مگر عمران خان حملے سے خوش قسمتی سے محفوظ رہے ۔

یہ بھی پڑھیے

وزیرآباد:پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں فائرنگ ، عمران خان سمیت 5 افراد زخمی

گزشتہ روز تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران پنجاب کے شہر وزیر آباد میں عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کی گئی جس میں پی ٹی آئی سربراہ سمیت دیگر 5 رہنما زخمی ہوئے تاہم خوش قسمتی سے سابق وزیر اعظم معمولی زخمی ہوئے اور گولی ان کی ٹانگ پر لگی ۔

پیپلز پارٹی کی چیئرمین سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو پر بھی پنجاب کے شہر راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے دوران  فائرنگ اور اس کے بعد خود کش حملہ کیا گیا جس میں پی پی کی سربراہ  گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گئیں تھیں جبکہ حملے میں درجنوں افراد بھی جاں بحق ہوئے تھے ۔

وزیرآباد میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں عمران خان کے کنٹینر کے پاس فائرنگ کا واقعے میں عمران خان سمیت 5 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ مارچ میں شریک ایک شخص جوکہ  کنٹینر کے قریب سڑک پر موجود تھا وہ  گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا ۔

پی پی پی اور پی ٹی آئی کے سربراہان  جوکہ ملک کے وزرائے اعظم کے منصب پر فائض بھی رہے  پرحملے میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔ دونوں رہنماؤں پرحملے کی پیشگی اطلاعات تھیں جبکہ دونوں پر سڑک پر موجود افراد نے فائرنگ کی ۔ ایک حملہ اکتوبر اور دوسرا نومبر میں ہوا ۔

بےنظیربھٹو آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے 18 اکتوبر2007 کو واپس آئیں تو انکے استقبالیہ جلوس پر خودکش حملہ ہوا۔ یہ دھماکہ بے نظیر کے ٹرک سے کچھ فاصلے پر ہوا۔ بےنظیر بھٹو تو اس انتہائی خطرناک حملے میں محفوظ رہیں مگر 140 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے ۔

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران ضلع وزیر آباد میں عمران خان کے کنٹینر پر حملہ کیا گیا جس کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان بھی سیاسی سرگرمی کے دوران زخمی ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔حملے میں دیگر رہنما زخمی بھی ہوئے ۔

یاد رہے کہ بے نظیر  بھٹو سے قبل  تحریک پاکستان کے  سرکردہ رہنما اور قائد اعظم کے  قابل اعتماد ساتھی ،ملک کے پہلے وزیر اعظم شہید  خان لیاقت علی خان بھی راولپنڈی میں ایک جلسے کے دوران  فائرنگ کا نشانہ بنے تھے ۔

ملکی تاریخ میں کسی بھی سیاسی رہنما پر پہلا قاتلانہ  حملہ  پہلے خان لیاقات علی خان پر کیا گیا تھا یہ واقعہ 16 اکتوبر 1951 کو کمپنی باغ راولپنڈی میں  میں پیش آیاتھا  بعد ازاں  لیاقت علی خان کی یاد میں کمپنی باغ کا نام تبدیل کرکے لیاقت باغ کر دیا گیا تھا ۔

لیاقت علی خان ، بے نظیر بھٹو، عمران خان سے قبل  بہت سے سیاسی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کرکے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی گئیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما بشیر احمد بلور ایک سیاسی جلسے کے دوران خود کش حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے ۔

جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان  بھی 2011 میں2 خود کش حملوں کی زد میں آئے تاہم وہ خوش قسمتی سے دونوں حملوں میں محفوظ رہے تاہم ایک حملے میں پانچ جبکہ دوسرے حملے میں 7 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے ۔

سابق وزرائے اعظم نوازشریف، شوکت عزیز، سابق صدر جنرل ریٹائرڈ  پرویز مشرف سمیت دیگر کئی نامور سیاسی رہنماسیاسی جلسے کے دوران  قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر