رانا ثنااللہ نے عمران خان پر حملے کو مذہبی جنونیت کا معاملہ  قرار دے دیا

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ عمران خان پر حملے میں ملوث ملزم کا وڈیو بیان ریلیز کرنا انتہائی تشویشناک ہے، اس کی تحقیقات کرنی چاہئے، رانا ثنا اللہ نے حملے کے بعد عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے رویوں کو تباہی کا راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل خود عمران خان کیلئے بہتر ثابت نہیں ہوگا

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان پر حملہ سیدھا سیدھا مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کا معاملہ ہے۔ عمران خان سیاسی مخالف ضرور ہیں مگر دشمن نہیں ان پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

لیگی رہنما وفاقی وزیر برائے داخلہ  امور رانا ثنا اللہ نے عمران خان پر حملے کو مذہبی انتہا پسندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی انتہا پسندی بھگت رہے ہیں جبکہ اب ملک میں سیاسی انتہاپسندی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

سابق وزرائے اعظم بے نظیر اور عمران خان پر قاتلانہ حملوں میں یکسانیت

وزیر داخلہ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر حملے کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملے کے بعد پی ٹی آئی والے  تباہی کا راستہ اختیار کر رہے مگر یہ ان کے لیے بھی  بہتر عمل نہیں ہوگا ۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان سیاسی مخالف ضرور مگر دشمن نہیں ہے مگر حملے کے بعد اسد عمر نےبغیر ثبوت   جو الزام تراشیاں کی اور ان کے رہنما اسلحلہ لہرا لہرا کر جو دھمکیاں دے رہے ہیں قابل مذمت ہے ۔

لیگی رہنما نے کہا کہ  عمران خان اور پی ٹی آئی رہنما کا رویہ شرمناک ہے۔ کل واقعے کا ملزم پنجاب پولیس نے پکڑا اور گجرات تھانے میں اسکا بیان ریکارڈ ہوا جبکہ ایف آئی آر اب تک درج نہیں کی گئی ۔

رانا ثنا اللہ نے ملزم کے اعترافی بیاناب کی وڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے متعلق کہا کہ اسے پبلک نہیں کرنے چاہیے تھا ہم نے اسے روکنے  کی کوشش کی تھی تاہم وہ میڈیا تک پہنچائی گئی ۔

اعترافی بیان میں ملزم نے حملے کی جن وجوہات  کا ذکر کیا وہ انتہائی خوفناک اور تشویشناک ہیں۔ پنجاب حکومت نے وڈیو ریلیز کرنے والوں اہلکاروں کو معطل کردیا اسے ہم نے روکنے کی کوشش کی تھی ۔

رانا ثنا اللہ نے ملزم کے اعترافی بیان کی وڈیو سے متعلق  تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وڈیو گجرات پولیس نے پبلک کی اور پنجاب پولیس میں ہمارا کچھ لینا دینا نہیں ۔ ہم تو سپاہی کا تبادلہ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ بات زیادہ اہم ہے کہ وڈیو لیک ہوئی یا ریلیز کی گئی تاہم اس وڈیو کا سوشل میڈیا پر گردش کرنا نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایسے عناصر شہ پکڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر