تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ پنجاب سے مزید سرپرائزز ملنے والے ہیں، ذرائع
جمعرات کے روز گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور عمران خان پر فائرنگ کی ایف آئی آر کے اندراج کے معاملے پر پنجاب حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔
سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر فائرنگ کا کیس ، ایف آئی آر کے متن پر دو روز سے فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ، رہنما تحریک انصاف اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہنا ہے کہ اگر آئی جی عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کرواسکتے تو ان کی وردی پر لعنت ہے ، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ ابھی پی ٹی آئی کو مزید سرپرائزز دیں گے۔
گذشتہ روز لاہور میں جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب میں اگر اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ایک ایف آئی آر اپنے ڈی پی او اور ایس ایچ او سے درج کروا سکے تو لعنت ہے تیری وردی پر۔ استعفیٰ دے کر گھر چلے جاؤ۔
آئی جی اگر تو ایک ایف آئی آر نا کٹوا سکے تو لعنت ہے تیری وردی پر، شاہ محمود قریشیpic.twitter.com/kyo9lKHQI8
— Mughees Ali (@mugheesali81) November 5, 2022
یہ بھی پڑھیے
پرویز الٰہی فوجی افسر کی نامزدگی سے انکاری، عمران خان پر حملے کا مقدمہ درج نہ ہوسکا
وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس بےاثر، عمران خان پر حملہ آور ملزم کا دوسرا بیان بھی باہر آگیا
واضح رہے کہ گوجرانوالہ پولیس نے تحریک انصاف کے رہنما زبیر نیازی کی پہلی درخواست پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ پولیس کی جانب سے مشاورت کے لیے دی گئی مہلت آج شام ختم ہو جائے گی۔ مزید تاخیر ہوئی تو مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔
ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر میں جو نام دیئے گئے ہیں ، ان میں سے میجر جنرل فیصل نصیر کے نام پر وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب کو ایف آئی آر درج کرنے سے روک دیا ہے۔
ذرائع نے نیوز 360 کو مزید بتایا ہےکہ ایف آئی آر کے اندراج کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب ، چیئرمین تحریک انصاف کو مزید کئی سرپرائزز دینے والے ہیں۔ کیونکہ عمران خان اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کرانے پر بضد ہیں جبکہ چوہدری پرویز الہیٰ اپنی ضد پر قائم ہیں۔
ذرائع نے نیوز 360 کو مزید بتایا ہے کہ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے چارج چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا، ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ذاتی وجوہات کی بنا پر مزید کام جاری نہیں رکھ سکتے ، انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ پنجاب سے میری خدمات واپس لے لی جائیں۔
نیوز 360 کو ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر آباد میں عمران خان پر حملے کے بعد پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے آئی جی پنجاب کے تبادلے کا مطالبہ کیا جارہا تھا، اس کے علاوہ پنجاب حکومت اور آئی جی کے درمیان تقرر و تبادلوں سمیت دیگر معاملات پر بھی تناﺅ تھا، سی سی پی او کے چارج نہ چھوڑنے کے معاملے پر بھی آئی جی پنجاب ناخوش تھے۔









