سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج

وزیرآباد پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں مرکزی ملزم نوید مہر کے علاوہ کسی اور ملزم کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر پنجاب پولیس نے پیر کے روز وزیر آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے ، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں عمران خان کی جانب نامزد کردہ افراد کے نام شامل نہیں کیے گئے۔

ایف آئی آر، ایک اہم قانونی دستاویز جو عام طور پر کسی واقعے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر درج کی جاتی ہے، تاہم مذکورہ کیس میں ایف آئی آر 96 گھنٹے سے زیادہ کے وقفے کے بعد درج کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک انصاف کے کارکنوں نے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند کردیئے

وفاقی وزیر احسن اقبال اور پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر ارسلان ٹوئٹر پر آمنے سامنے

مقدمہ وزیر آباد تھانے میں درج کیا گیا۔ اس میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور دیگر دفعات شامل ہیں۔

وزیرآباد پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں مرکزی ملزم نوید مہر کو نامزد کیا گیا ہے۔ نوید مہر کو وقوعہ کی جگہ سے پستول سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ ایف آئی آر میں کسی اور کو نامزد کیا گیا ہے یا نہیں ۔ پولیس نے ایف آئی آر کو سیل کردیا ہے جسے منگل کی صبح عدالت کے سامنے کھولا جائے گا۔

یہ بھی یاد رہے کہ پولیس کل مرکزی ملزم نوید مہر کو باضابطہ طور پر گرفتار کرے گی کیونکہ اب اس کے نام پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ملزم اس وقت لاہور میں لاہور پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی تحویل میں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ایف آئی آر پر اعتراض کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” تحریک انصاف اپنا مؤقف دے چکی ہے اگر FIR میں شہباز شریف، رانا ثنااللہ اور فیصل نصیر کے نام شامل ہیں تو یہ FIR قانونی ہے ، ان ناموں میں کوئی بھی تحریف تحریک انصاف کو قبول نہیں اور ہمارے نزدیک FIR کاغذ کا بے وقعت ٹکڑا ہو گی۔”

یہ بھی یاد رہے کہ پیر کی صبح سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے استفسار پر پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

آئی جی پنجاب فیصل شاہکار جو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر مقدمہ درج کیا جائے گا جیسے ہی احکامات موصول ہوں گے مقدمہ درج کرلیا جائے۔

تاہم چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر 24 گھنٹے کے اندر اندر درج کی جائے ورنہ پولیس سوموٹو نوٹس لے گی۔

متعلقہ تحاریر