پی ٹی آئی کی جانب سے وزیرآباد واقعے کی ایف آئی آر مسترد: دھرنے کی کال: اداروں اور عوام میں تصادم کا خطرہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے کارکنان کو اسلام آباد راولپنڈی کے سنگم پر جمع ہونے کی ہدایت کردی ہے جبکہ وفاق نے ایف سی اور رینجرز کی اضافی نفری طلب کرلی ہے ، موجودہ صورتحال کسی طور پر بھی تصادم کی صورتحال سے کم نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 3 نومبر کو پارٹی چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے کے واقعے کی وزیر آباد پولیس کی جانب سے درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کو مسترد کردیا ہے ، اور اسلام آباد محاصرے کی کال دے دی ہے ، رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے ایف آئی آر کو مسترد کرتے ہوئے کاغذی ٹکڑا قرار دیا ہے ، دوسری جانب آج اہم کورکمانڈرز کانفرنس طلب کرلی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس ساری صورتحال کو تصادم کی تشبیہہ دی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر کو مسترد کردیا ، واقعے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ عمران خان سمیت 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج

تحریک انصاف کے کارکنوں نے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند کردیئے

وزیرآباد پولیس نے یہ ایف آئی آر کل (پیر) سپریم کورٹ کے حکم کے چند گھنٹے بعد درج کی ہے ، عدالت عظمیٰ نے پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کرنے پر سوموٹو کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔

وزیرآباد پولیس نے واقعے کے 96 گھنٹے بعد ایف آئی آر درج کرلی ہے ، تاہم ایف آئی آر میں ان ملزمان کے نام شامل نہیں کیے گئے جو پی ٹی آئی قیادت نے اپنی درخواست میں دیئے تھے۔

Imran attack FIR

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں مرکزی ملزم نوید مہر کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ دیگر کسی شخص یا ملزم کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کرنا چاہتی تھی۔

Imran attack FIR

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے وزیرآباد پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کو بےکار ردی کا ٹکڑا قرار دیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ "تحریک انصاف اپنا مؤقف دے چکی ہے اگر FIR میں شہباز شریف، رانا ثنااللہ اور فیصل نصیر کے نام شامل ہیں تو یہ FIR قانونی ہے ، ان ناموں میں کوئی بھی تحریف تحریک انصاف کو قبول نہیں اور ہمارے نزدیک FIR کاغذ کا بے وقعت ٹکڑا ہو گی۔”

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پہلے ہی اپنا مؤقف بتا چکی ہے کہ اگر ایف آئی آر میں شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر کے نام شامل کیے جائیں تو پارٹی اسے قانونی کاغذ کے طور پر تسلیم کرے گی۔ تاہم، انہوں نے کہا، چونکہ مذکورہ بالا ناموں میں سے کوئی بھی ایف آئی آر میں شامل نہیں ، اس لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے کارکنان کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر جمع ہونے کی ہدایات دے دی ہیں جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت نے ایف سی اور رینجرز کی بھاری نفری کو اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات کردیا ہے ، جس نے خطرناک تصادم کی صورتحال پیدا کردی ہے۔

گزشتہ روز بھی پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج نہ ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد سے پشاور اور اسلام آباد سے لاہور جانے والی موٹر وے کو مکمل طور پر بند کردیا تھا ، جس کے باعث ہزاروں گاڑیاں ٹریفک میں پھنس گئی تھیں۔

تحریک انصاف کے رہنماوں اور  کارکنوں نے کئی گھنٹوں تک اسلام آباد پشاور، اسلام آباد لاہور موٹروے کو بند رکھا جبکہ شمس آباد جانے والی مری روڈ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ٹائرز جلائے جس سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک کا نظام درھم برھم رہا۔

دوسری جانب مسلح افواج کی کور کمانڈرز کانفرنس کا اہم اجلاس آج جی ایچ کیو میں طلب کرلیا گیا ہے۔

آرمی چیف جنرل  قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں ، ملکی اندرونی صورتحال ، علاقائی سیکورٹی کی صورتحال اور فوج کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر