ارشد شریف کے ورثا کو نہ ملنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کامران شاہد کو کس نے دی؟

ارشد شریف کو قتل سے قبل 3 گھنٹے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انگلیاں توڑی گئیں ناخن اکھاڑے گئے، کامران شاہد کا دعویٰ: بیوہ جویریہ صدیقی کے احتجاج پر کامران شاہد نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے اپنے پروگرام کی وڈیو ڈیلیٹ کردی

دنیا نیوز کے سینئر اینکر پرسن کامران شاہد نے انتہائی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینیا میں شہید کیے گئے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور میت پرکیے گئے مبینہ تشدد کی تصاویر اپنے پروگرام میں نشر کردیں۔

شہید کے ورثا کے احتجاج اور سوشل میڈیا کے ردعمل کے بعد کامرا ن شاہد نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے میت کی تصاویر اور پروگرام کی وڈیو ہٹادی۔ناقدین نے سوال اٹھایا ہےکہ شہید ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور میت کی جو تصاویر ان  کے ورثا کو فراہم نہیں کی گئیں وہ کامران شاہد کوکس نے پہنچائیں؟

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم نے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ: اسلام آباد ہائی کورٹ سے پمز اسپتال اور انتظامیہ کو نوٹس جاری

دنیا نیوز کے اینکر کامران شاہد نے گزشتہ روز اپنی پرائم ٹائم شو”فرنٹ لائن“ میں کینیا میں قتل کیے  گئے اینکر پرسن ارشد شریف کی  پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات اور میت پرکیے گئے مبینہ تشدد کی تصاویر نشر کی تھیں۔

کامران شاہد نے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ ارشدشریف کو کینیا میں قتل کیے جانے سے قبل ڈھائی ،3 گھنٹے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان  کی انگلیوں کے ناخن کھینچے گئے،انگلیاں توڑی گئیں اور پھر سر کے پیچھے انتہائی قریب سے گولی ماری گئی ۔

کامران شاہد کے پروگرام میں نشر ہونے کےبعد ارشد شریف  کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور میت کی تصاویر سوشل میڈیا پروائرل ہوگئیں جس پر ان کی بیوہ جویرہ صدیقی نے احتجاج کرتے ہوئے میت کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے کی اپیل کردی۔

جویریہ صدیقی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میڈیا ٹرائل بند کیا جائے اور ہمیں کینیا اور پاکستان  میں ہونے والے پوسٹ مارٹم کی رپورٹس مہیا کی جائیں۔ کچھ انسانیت کا مظاہرہ کریں اور ہمارے اور شہید کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

جویریہ صدیقی نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ارشد بہت شرم و حیا والے تھے اس ملک سے بھی اس لئے گئے تھے کہ انکو ننگا کرنے والا تشدد قبول نہیں تھا، آپ سب انکے اعضا کی تصاویر مت شئیر کریں، شہید اور ہمیں تکلیف مت دیں۔

جویریہ صدیقی نے شکوہ کیا کہ میں ارشد سے تین بار پمز میں ملی میں بیوی ہونے کے باوجود فون نہیں لے کر گئ تو کس نے تصاویر لے کر میڈیا کو لیک کی پمز کی انتظامیہ لعنت کی مستحق ہے۔

یادر ہے کہ شہید ارشد شریف کی میت کے کینیا اور پاکستان میں ہونے والے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ تاحال ان کےورثا کو نہیں فراہم کی گئی ہے۔ارشد شریف کی والدہ نے پوسٹ مارٹم رپورٹس کے حصول کیلیے   اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرکھی ہے۔

عدالت عالیہ نے گزشتہ سماعت میں  درخواست گزار رفعت آرا علوی کی جانب سے نامزد کردہ فریقین صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، سیکریٹری داخلہ اور پمز اسپتال اسپتال کی انتظامیہ سے 15 نومبر تک جواب طلب کررکھا ہے۔

دوسری جانب اینکر پرسن کامران شاہد نے شہید ارشد شریف کے ورثا کے احتجاج کے بعد اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے میت کی تصاویر اور اپنے پروگرام کا کلپ ہٹادیا۔

کامران شاہد نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ فیملی کے احترام میں اپنے شو کی وہ وڈیو ڈیلیٹ کردی ہے جس میں ارشد شریف کے ہاتھ دکھائے گئے تھے۔انہوں نے مزید لکھا کہ  میرا مقصد صرف اس  حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا کہ ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کا سچ سامنے لائے ، پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کرے اور قاتلوں کاکھوج لگائے۔

دوسری جانب شہید ارشد شریف کی میت کی تصاویر دکھانے پر سوشل میڈیا پر کامران شاہد کو شدید تنقید کا سامنا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ شہید کی جو پوسٹ مارٹم رپوٹس اور  تصاویر ورثا کو فراہم نہیں کی گئیں وہ میڈیا کو کس نے دیں؟

متعلقہ تحاریر