عمران خان کے پنجاب حکومت، نیب اور ای وی ایم سے متعلق آرمی چیف پر سنگین الزامات
آرمی چیف علیم خان کو وزیراعلیٰ پنجاب لگوانا چاہتے تھے، نیب کو بدعنوان سیاستداتوں کو کنٹرول کرنے کیلیے بطور ہتھیار استعمال کیا، ای وی ایم کی مخالف بھی جی ایچ کیو نے کی تھی کیونکہ اسکا استعمال دھاندلی کو ناممکن بنادیتا، سربراہ تحریک انصاف کاروزنامہ ڈان کو انٹرویو
سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے انگریزی روزنامہ ڈان کو دیے گئے تازہ ترین انٹرویو میں آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔
عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ آرمی چیف علیم خان کو وزیراعلیٰ پنجاب لگوانا چاہتے تھے، نیب کو بدعنوان سیاستداتوں کو کنٹرول کرنے کیلیے بطور ہتھیار استعمال کیا، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالف بھی جی ایچ کیو نے کی تھی کیونکہ ای وی ایم کا استعمال دھاندلی کو ناممکن بنادیتا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد بیٹوں کی والد سے پہلی ملاقات
عمران خان اپنے اوپر قاتلانہ حملے کے نئے نئے رازوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں
روزنازمہ ڈان کے مطابق گوکہ ان کے کارکنان کی بڑی تعداد انہیں نیا جنم لینے والا جمہوریت پسند سمجھتی ہے جو فوج اور سویلین حکومت کےدرمیان تعلقات کے قوائد و ضوابط کو نئے انداز میں لکھنا چاہتا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ انہیں ادارے کی طاقت اور اثر و رسوخ پر یقین ہے۔ اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک حدود میں رہ کر مثبت کاکم کرنے کی حرکیات بہترین نتائج پیدا کرسکتی ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے 3 سال میں ان کے تعلقات میں تلخی آگئی۔
عمران خان کا کہنا تھا”میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ فوج اتنی طاقتور اور منظم ادارہ ہے، جب میں ملک میں قانون کی حکمرانی لانے کی کوشش کروں گا تو بطور منظم ادارہ وہ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گا“۔
انہوں نے کہا کہ” قومی احتساب بیورو (نیب) فوج کے کنٹرول میں تھا، میں کچھ نہیں کر سکا۔ وہ کہتے تھے ، ہاں کیسز ہیں،ہم ان پر کام کر رہے ہیں لیکن کچھ نہیں ہوتاتھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ درحقیقت اسٹیبلشمنٹ نیب کو کنٹرول کرتی ہے اور جیسے چاہتی ہے کیسز چلاتی ہے، سیاستدانوں کو ان کی بدعنوانی کی فائلیں رکھ کر کنٹرول کیا جاتا تھا۔ وہ کسی کو دبوچ لیتے تھے لیکن پھر وہ ضمانت پر رہا ہو جاتا تھا“۔
یہ پوچھے جانے پر کہ ان کے اور فوج کے درمیان تعلقات کب خراب ہونا شروع ہوئے ؟عمران خان نے کہا کہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار افراد کو سزا دلوانے میں ناکامی تعلقات میں خرابی کی پہلی علامت تھی۔
عمران خان نے مزید کہا کہ” پنجاب کے وزیراعلیٰ کا انتخاب تعلقات میں خرابی کی دوسری وجہ بنا، آرمی چیف چاہتے تھے کہ میں علیم خان)بطور وزیراعلیٰ پنجاب( رکھوں لیکن میں نہیں چاہتا تھاکیونکہ اس کے خلاف نہ صرف نیب کیسز تھے بلکہ اس نے حکومت کی کروڑوں مالیت کی زمینوں پر قبضہ کرکے فروخت کیا تھا۔
اس سوال پر کہ اگر علیم خان کو غلط کام کرنے کا شبہ ہے تو انہیں اپنی پارٹی میں کیوں شامل کیا؟ عمران خان نے کہا کہ ”ہم نے ہمیشہ سوچا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور اس نے اپنا دفاع کیالیکن جب میں نے ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین سے (علیم کے بارے میں) پوچھا تو انہوں نے مجھے نقشے پر دکھایا کہ علیم خان نے کس طرح سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، یہ میری حکومت کے دوسرے سال کےاختتام کے قریب کی بات ہے ۔
تعلقات میں خرابی کب شروع ہوئی؟
عمران خان نے واضح کیا کہ جس وقت جنرل باجوہ نے علیم خان کو وزیراعلیٰ بنانے کیلیے کہا تھا تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے،”وہ منظم تھے، آپ ان کی مدد لے سکتے تھے، ہم خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک ہی صفحے پر تھے۔صرف ابھی 6 ماہ کی ہی بات ہے کہ انہوں نے مجرموں سے سودا کرلیا حالانکہ انہیں سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا“۔
احتساب کے معاملات پر فوج کے اثر و رسوخ کے بارے میں اپنے موقف کی تائید میں عمران خان نے مزیدکہا کہ”میرے اقتدار میں آنے سے پہلے فوج ان لوگوں کا پیچھا کر رہی تھی، ان میں سے 95 فیصد کیس میری حکومت سے پہلے کے ہیں، نواز شریف کیس، ایون فیلڈ کیس، اگر فوج جے آئی ٹی میں دو بریگیڈیئر فراہم نہ کرتی تو وہ سزا نہ پاتے“۔
روزنامہ ڈان کے مطابق گوکہ عمران خان نیب کی عدم فعالیت اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے معاملات کو اپنے اور فوج کےتعلقات میں خرابی کی وجہ سمجھتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دراصل نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر آرمی چیف کے ساتھ ان کے اختلافات تھے جس نے معاملات کو اس نہج پر پہنچایا۔
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ نومبر میں آرمی چیف کون ہوگا
اس حوالےسے پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے کہاکہ” دیکھیں،مجھے فوج کی اندرونی سیاست کا علم نہیں، میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ہمارا تعلق اچھا چل رہا تھا۔ بعد میں مجھےعلم ہوا کہ اگلے آرمی چیف کے بارے میں ایک بڑا مسئلہ چل رہا ہے، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ نومبر میں آرمی چیف کون ہوگا، اگر وہ میرٹ پرآتا ہے تو مجھے کیوں پرواہ ہوگی؟ وہ بہترین انسان ہونا چاہیے۔ یہ شریفوں اور زرداریوں کے لیے اہم ہے، لیکن میرے لیے نہیں“۔
اس سوال پر کہ تاثرپایا جاتا ہے کہ جنرل فیض حمید ” آپ کے آدمی “تھے۔ عمران خان نے کہاکہ”جنرل فیض واحد جنرل تھے جنہیں میں جانتا تھا، کیونکہ وہ میرے ساتھ آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے اور میں کسی اور کو نہیں جانتا تھا۔ میں نے جنرل باجوہ سے کہا’میں آپ کی سفارشات لوں گا کیونکہ میں دوسروںکو نہیں جانتا‘، لیکن اس وقت میری پریشانی افغانستان تھی۔ مجھے خدشہ تھا کہ یہ خانہ جنگی میں چلا جائے گا۔ اور میں نے محسوس کیا کہ امریکی ہم پر الزام عائد کریں گے اور ہم پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اشرف غنی نے مجھے بتایا کہ وہاں3لاکھ افغان فوجی ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔ صرف اشرف غنی ہی نہیں، آئی ایس آئی ہمیں بتا رہی تھی کہ(افغانستان میں) خانہ جنگی ہوگی، میں چاہتا تھا کہ جنرل فیض موسم سرما تک اس وقت تک رہیں جب تک منتقلی نہیں ہو جاتی“۔
روزنامہ ڈان کے مطابق ان الزامات کے باوجود کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، ان کے مخالفین کو جیل میں ڈال دیا گیا یا نااہل قرار دیا گیا اور میڈیا نے پرجوش حمایت فراہم کی، عمران خان کا اصرار ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار میں آنے میں ان کی مدد نہیں کی۔ عمران خان کے مطابق وہ اپنی مقبولیت کی وجہ سے کامیاب ہوئے ،اس لیے نہیں کہ وہ فوج کہ پسندیدہ تھے ۔
انہوں نے کہاکہ”فوج نے 2018 کے الیکشن میں میرا ساتھ نہیں دیا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم آزادانہ اور منصفانہ طور پر جیتےتھے“۔اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ” گزشتہ چھ ماہ کے دوران جب سے میں اقتدار سے باہر رہا ہوں، میں نے 37 ضمنی انتخابات میں سے 29 میں کامیابی حاصل کی ہے،باجود اس کے کہ الیکشن کمیشن بھی ان کی حمایت کر رہا ہے ، ہم نے 37 میں سے 29 جیتے ہیں“۔
ای وی ایم متعارف کرانے کی فوج نے مزاحمت کی
عمران خان نےالزام عائد کیا کہ اگلے انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) متعارف کرانے کی ان کی کوششوں کی بھی فوج نے مزاحمت کی۔
”دو سال تک، میں نے ای وی ایم حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جب آپ کے پاس ای وی ایم ہوتے ہیں تو دھاندلی ختم ہوجاتی ہے کیونکہ تمام دھاندلی پولنگ ختم ہونے کے بعد ہوتی ہے، دونوں اہم جماعتوں نے اس کی مزاحمت کی کیونکہ ان کے پاس زیادہ تر حلقوں میں جعلی ووٹ ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اس کی مزاحمت کی گئی، کیونکہ جب دھاندلی کی بات آتی ہے ،توووٹوں کی گنتی کے دوران کا وقت اس مقصد کیلیے استعمال ہوتا ہے۔ یاد ہے جب جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ انہیں خواجہ آصف کی طرف سے کال آئی تھی جب وہ ہار رہے تھے؟ اگلے دن وہ جیت گئے“۔
روزنامہ ڈان کے مطابق جب عمران خان کو یاد دلایا گیا کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی پارٹی کی جیت کے خلاف بالکل یہی الزامات لگے تھے توانہوں نے کہا کہ” ہم نے 3ہزار ووٹوں کے فرق سے 17 سیٹیں کھو ئی تھیں، اگر وہ (اسٹیبلشمنٹ) مدد کرنا چاہتے تو ہم آسانی سے یہ سیٹیں حاصل کر سکتے تھے“۔
روزنامہ ڈان کے مطابق عمران خان تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی محدود اکثریت ا ن کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک تھی، اور اگر انہیں دوبارہ اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، تو وہ”کبھی حکومت نہیں لیں گے“۔
انہوں نے کہاکہ” ہمارے پاس طاقت نہیں تھی، اس بار اگر میں آیا تو حکومت نہیں لوں گا اگر میرے پاس اکثریت نہیں ہے اور کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا۔ اگر آپ کے پاس اتحادی ہے اور ایک قلیل اکثیریت ہے اور آپ کو اپنے ہی لوگ بلیک میل کر رہے ہیں تو حکومت کرنا ناممکن ہے۔ اس وقت فوج کا کردار زیادہ نمایاں ہو گیا تھا کیونکہ ہمیں ان کی مدد کی ضرورت تھی اور ہم اسی مقصد کے لیے مل کر کام کر رہے تھے“۔
اس سوال پر کہ کیا وہ فوج کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے میں خوش ہیں؟ عمران خان نے کہا کہ” ان کے کردار کو مکمل طور پرختم کرنامثالی ہوگا“۔انہوں نے کہاکہ ”وہ اتنے سالوں سے اقتدار میں ہیں، لیکن ایک توازن کی ضرورت ہے۔ یہ سوچنا کہ فوج کو سیاست سے باہر کر دیا جائے گا ممکن نہیں، ان کی طاقت کا تعمیری استعمال اس ملک کو ادارہ جاتی تباہی سے نکال سکتا ہے“۔









