سزا یافتہ مفرور شخص کا ملک کے اہم ترین فیصلے کرنا قوم کی توہین ہے، عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مفرور ملزم نوازشریف میرٹ کی بجائے اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتاہے تاکہ اس کی چوری بچی رہے، پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی زندگی میں کبھی میرٹ پر کوئی کام نہیں کیا تو آرمی چیف کیسے میرٹ پر تعینات کردے گا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ایک مفرور اشتہاری ملزم آرمی چیف کی تعنیاتی سمیت ملک کے اہم ترین فیصلے کررہا ہے۔ پاکستان میں اخلاقیات کا قتل عام جاری ہے ۔

تحریک انصاف کےلانگ مارچ سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے مگر نواز شریف چاہے گا ایسا آرمی چیف ہو جو اس کی مدد کرے ۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ مل گیا، واپسی کی تاریخ دینے سے تاحال گریز

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مفرور ملزم نوازشریف میرٹ کی بجائے اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتاہےتاکہ اس کی چوری بچی رہے۔ ایک مفرور اور سزا یافتہ آدمی ملک کے اہم فیصلے کررہا ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے نواز شریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے اپنی پوری زندگی میں میرٹ پر کچھ کیا نہیں۔ کیا یہ اس ملک میں آرمی چیف کی سیلکشن ٹھیک کرے گا؟

تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ سزا یافتہ مفرور شخص کی جانب سے ملک کے اہم ترین فیصلے کرنا ملک وقوم کی توہین ہے۔ نوازشریف اداروں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں جس کا مطلب ملک برباد کرنا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ شہبازشریف پاکستان کا وزیراعظم ہوتے ہوئے دوسرے ملکوں سے بھیک مانگتا ہے۔ شہبازشریف کو سازش کے تحت وزیراعظم کی کرسی بیٹھایا گیا ہے ۔

ویڈیو لنک سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ نوازشریف جھوٹ بول کر اس ملک سے بھاگا تھاجبکہ ملک کا وزیراعظم مفرور شخص سے ملاقات کرنے بار بار لندن پہنچ جاتا ہے ۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم ایٹم بم کا حملہ برداشت کرسکتی ہے لیکن کرپشن نہیں۔ جاپان پر ایٹم بم حملے کے بعد آج کہاں کھڑا ہے جبکہ ہم بھکاری بن چکے ہیں ۔

عمران خان نے کہا کہ مغرب میں لوگ اپنے حقوق جانتے ہیں، یہاں زمین پر قبضہ ہو جائے تو غریب دھکے کھاتا ہے، صرف بنانا ری پبلک میں قبضہ گروپ ہوتے ہیں۔

اعظم سواتی سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ   ہمارے سینیٹر کو اب تک انصاف نہیں ملا جبکہ میرے اوپر قاتلانہ حملے کا مقدمہ بھی تاحال درج  نہیں کیا گیا ہے ۔

مقتول صحافی ارشد شریف کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ارشد شریف پر تشدد کی تصاویر دیکھ کر دھچکا لگا۔ انہوں نے با ضمیر صحافیوں کے ساتھ ظلم کیا۔ ارشد شریف کا قتل تمام صحافیوں کے لئے پیغام تھا ۔

متعلقہ تحاریر