فرح گوگی نے ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کیسے کیری کیے۔؟ حامد میر جواب دیں
سینئر صحافی اور جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر نے دعویٰ کیا کہ توشہ خانہ کے گفٹ سیٹ میں 12 ملین ڈالر کی کلائی گھڑی، قلم اور کف لنکس شامل ہیں جو فرحت شہزادی عرف فرح گوگی دبئی سے لے کر آئیں تھیں۔
سینئر صحافی اور جیو نیوز کے پروگرام ‘کیپیٹل ٹاک’ کے اینکر پرسن حامد میر نے دعویٰ کیا کہ توشہ خانہ کا تحفہ سیٹ جس میں کلائی گھڑی، قلم اور کف لنکس شامل ہیں ، جس کی مالیت 12 ملین ڈالر بنتی ہے ، فرحت شہزادی دبئی میں فروخت کرکے 12 ملین ڈالر پاکستان لے کر آئیں تھیں۔ تجزیہ کاروں نے دعویٰ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اسمگل شدہ رقم کا سراغ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ، حامد میر صاحب معلوم کرلیں کہ فرح گوگی نے وہ ڈالر کس منی ایکسچینجر سے تبدیل کروائی تھے۔
گزشتہ روز جیو نیوز کی صبح کی نشریات میں بیپر دیتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب بغیر ثبوت کے صحافیوں کو لفافی صحافی کہتے رہے ہیں۔ اب ذرا خان صاحب یہ بھی بتادیں کہ فرح گوگی نے جو بھرا ہوا بیگ دبئی سے حاصل کیا تھا وہ دو ملین ڈالر آپ نے کہاں کہاں استعمال کیے۔ آپ تو بغیر کسی ثبوت کے صحافیوں کو لفافہ صحافی کہتے ہیں۔ اب ایک صحافی نے ثبوتوں کے ساتھ ثابت کردیا ہے کہ آپ نے وہ گفٹ کس کو بیچا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان امریکی سازش کے بیانے سے پیچھے نہیں ہٹے، سد آنند دھومے
حامد میر نے شاہزیب خانزادہ کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شاہزیب نے اسکرین پر دکھا دیا ہے کہ یہ ہے وہ گفٹ ہیں، اور یہ ہے وہ شخص جس کو گفٹ بیچے گئے۔
صحافیوں پر بغیر ثبوت کے لفافہ صحافی کا الزام لگانے والے اب قوم کو بتائیں کہ سعودی ولی عہد کی طرف سے دیا جانے والا تحفہ کس نے عمر فاروق کو بیچا اور اس کی رقم ایک خصوصی تیارہ کے ذریعے بنی گالہ پہنچائ گئ ۔
ممتاز صحافی @HamidMirPAK کا سوال pic.twitter.com/mBf23kfFwN— زبانِ خلق (@CivilSupermacy) November 16, 2022
سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے سوال اٹھایا ہے کہ گزشتہ سال تک فراڈ کے 145 کیسز میں ایف آئی اے کو مطلوب ملزم عمر فاروق ظہور کے پاس سعودی کراؤن پرنس سے عمران خان کو ملنے والی گھڑی کیسے پہنچی۔؟ جبکہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عمر فاروق ظہور کو گھڑیوں کا سیٹ نہیں بیچا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ‘کیپیٹل ٹاک’ کے اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر کا دعویٰ ہے کہ گھڑی ، پین اور کف لنکس سمیت پورے سیٹ کی قیمت 12 ملین ڈالر تھی۔ ان کے اس دعویٰ نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ 12 ملین ڈالر کا مطلب ہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر۔ ڈالر کی سب سے بڑی نومینیشن 100 ڈالر ہے۔ امریکی ڈالر نہ 500 کا ہوتا ہے اور نہ 1000 کا ہوتا ہے۔
بقول حامد میر کے فرح گوگی ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر لے کر پاکستان آگئیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی رقم وہ لائیں کیسے۔؟ کیونکہ اتنی بڑی رقم کو لانے کے لیے ایک بڑے بیگ کی ضرورت ہوگی۔ اگر وہ ڈالر لے کر آ بھی گئیں تو انہوں نے وہ ڈالر کھا تو لیے نہیں ہوں گے۔ لازمی بات ہے انہوں نے وہ ڈالر پاکستانی پیسوں میں تبدیل کروائے ہوں گے۔ ظاہر بات ہے کہ انہوں نے وہ ڈالر کسی منی ایکسچینجر کے پاس تبدیل کروائے ہوں گے۔ اس حکومت کے لیے کیا مسئلہ ہے کہ تمام منی چینجرز کو بلا لیں اور معلوم کرلے کہ فرح گوگی نے کس کے پاس ڈالر ایکسچینج کیے تھے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس ہے جو حل نہیں ہوگی۔ اور اگر انہوں نے وہ ڈالر بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرائے ہوں گے تو وہ معلوم کرنا کون سے مسئلہ ہے۔
حامد میر صاحب کے دعوے پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جیو نیوز کے اینکر پرسنز کو ایک ٹارگٹ ملا ہے کہ گھڑی کے معاملے کو اچھالنا ہے چاہے اس کے لیے سچ بولنا پڑے یا جھوٹ۔ اس سے فرق نہیں پڑتا۔









