آرمی چیف کے اہل خانہ کی ٹیکس تفصیلات لیک ، وزیر خزانہ کا تحقیقات کا حکم
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے انکوائری مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس ڈیٹیل لیک ہوئی ہیں اور اگر ایسا ہی تو اسحاق ڈار صاحب پہلے اپنی جیبیں ٹٹول لیں۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہل خانہ کی ٹیکس ڈیٹیل لیک ہونے پر انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے انکوائری مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس ڈیٹیل لیک ہوئی ہیں اور اگر ایسا ہی تو اسحاق ڈار صاحب پہلے اپنی جیبیں ٹٹول لیں۔
وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہل خانہ کی ٹیکس معلومات کے غیر قانونی اور غیر ضروری لیک ہونے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ یہ واضح طور پر ٹیکس کی معلومات کی مکمل رازداری کی خلاف ورزی ہے جو قانون فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
نئے آرمی چیف کی تعیناتی: خواجہ آصف کے دیئے ہوئے وقت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع
پرائم منسٹر ہاؤس کو آرمی چیف کے حوالے کوئی سمری موصول نہیں ہوئی ، وزیر دفاع خواجہ آصف
چند غیر ذمہ دار ان کی جانب سے اس سنگین کوتاہی کے پیش نظر وزیر خزانہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو جناب طارق محمود پاشا کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر ٹیکس قانون اور ایف بی آر کے ڈیٹا کی خلاف ورزی کی فوری تحقیقات کی قیادت کریں اور اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے چوبیس گھنٹے میں رپورٹ پیش کریں۔
وزارت خزانہ نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ کسی بھی شخصیت کی ٹیکس تفصیلات عام کرنا خفیہ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیرخزانہ نے معاون خصوصی طارق پاشا کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طارق پاشا تمام تحقیقات کی تفصیلات 24 گھنٹے کے اندر اندر پیش کریں گے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے فوری طور پر انکوائری کا حکم دیئے جانے کا مطلب ہے کہ اسحاق ڈار تسلیم کررہے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہلخانہ کی ٹیکس ڈیٹیل لیک ہوئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تمام ٹیکس ڈیٹیل ایف بی آر کے حکام کے پاس ہوتی ہیں ، جس کا صاف مطلب ہے کہ ڈیٹیل ایف بی آر کے کسی اہلکار یا افسر نے لیک کی ہیں ، بہرحال یہ ایک خیال ہے کوئی حتمی رائے نہیں ، اصل حقائق تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے کہ ڈیٹا کہاں سے لیک ہوا اور کرنے والے کون تھے۔؟









