پاکستان کی دشمن ایجنسیاں عمران خان کو نشانہ بنا سکتی ہیں، رانا ثناء اللہ

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو پاکستان کی دشمن ایجنسیاں نشانہ بنا سکتی ہیں۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی دشمن ایجنسیاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو مسلح افواج، مجھ پر اور وزیراعظم شہباز شریف پر الزام تراشی کا نیا کھیل شروع ہو جائے گا۔

اس بات کا دعویٰ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے گزشتہ رات جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں اینکر پرسن سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام دشمن ایجنسیاں عمران خان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ان کی جان کے درپے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی چیف کے اہل خانہ کی ٹیکس تفصیلات لیک ، وزیر خزانہ کا تحقیقات کا حکم

پرویز مشرف پر حملہ کا مجرم اور پروین رحمان کے قتل میں ملوث مجرمان عدالتی حکم پر رہا

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کی لمبی عمر کے لیے دعاگو ہیں لیکن اگر عمران خان کو کچھ ہو گیا تو جیسے وزیر آباد حملے کے بعد ہر کوئی پاک فوج، آئی ایس آئی، مجھ پر اور وزیر اعظم کو مورد الزام ٹھہرا رہا تھا پھر دوبارہ ہم پر الزامات کی بوچھاڑ ہو جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا میرے رہنے یا نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، لیکن عمران خان کی جان کو کوئی خطرہ ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ اگر کوئی دشمن ایجنسی اس کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو تمام الزامات ہم پر آجائیں گے اس کو تو کوئی نہیں دیکھے گا۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ملک خانہ جنگی کی جانب چلے جائے گا۔

عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا یہ شخص اس ملک کو اس نہج پر لے آیا جہاں اس کا وجود ملک کے نقصان دہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس کا وجود اس ملک کے لیے انکارکی اور شر کا باعث ہے ، اور اگر اس کو کچھ ہو جاتا ہے تو یہ بھی ملک کے نقصان کا باعث بنے گا۔

اینکر پرسن سلیم صافی نے سوال کیا کہ کس قسم کے لوگ ہیں جو عمران خان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔؟ اس پر وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا جو لوگ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں انکارکی ہو ، امن و امان کی صورتحال خراب ہو۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا میں حکومت سے درخواست کرنے والا ہوں کہ اس شخص کو پکڑ کر ایسی جگہ رکھا جائے جہاں ایف سی اور رینجرز کا پہرہ ہو تاکہ یہ بالکل محفوظ رہے۔ 26 نومبر کو یہ راولپنڈی آرہے ہیں ، ہمیں لانگ مارچ والوں سے کوئی خطرہ نہیں ، ہمیں خطرہ اس بات کا کہ کوئی آکر اس (عمران خان) سے ٹکرا جائے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا میری تمام انٹیلی جنس ایجنسیز سے بات ہوئی ہے ، ان سب کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک دشمن ایجنسی اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کے طویل لانگ مارچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے شرکاء کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بنا رکھا۔ جب تک وہ پرامن رہیں اور غیر مسلح رہیں ہم بھی پرامن رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کوئی چھوٹی چیز نہیں بلکہ پورے پاکستان کا دارالحکومت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر لانگ مارچ کے شرکاء اسلحہ لے کر آئے اور انہوں نے اسے استعمال کیا تو وفاقی سیکیورٹی فورسز امن و امان برقرار رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال کریں گی۔ بصورت دیگر، حکومت کا لانگ مارچ کے شرکاء کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ثناء اللہ کو پاکستان میں کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے اپنی حکمت عملی بھی واضح کرنی چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ وزیر داخلہ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ کسی سابق وزیر اعظم یا دیگر شہریوں کو درپیش خطرات کا خاتمہ کریں ، اور انہیں سیکورٹی فراہم کریں جنہیں پاکستان دشمن ایجنسیاں نشانہ بنا سکتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر