پی ایف یو جے کا چیف جسٹس سے ارشد شریف قتل کیس کی ازخود سماعت کا مطالبہ

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے  چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس خط کو ایک پٹیشن میں تبدیل کریں اور اس کیس کی از خود سماعت کریں،خط کے متن میں پی ایف یو جے نے جسٹس عمر عطا بندیال سے ارشد شریف قتل کیس کی ازخود سماعت کا مطالبہ کیا ہے

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) جسٹس عمرعطا بندیال سے ارشد شریف قتل کیس کی ازخود سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ایف یو جے نے چیف جسٹس کو خط لکھا جس میں سپریم کورٹ سے ارشد شریف کے قتل کیس میں ازخود کارروائی کرنے اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد شریف قتل کیس: والدہ اور بیوہ کا حکومتی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار

پی ایف یو جے کے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو بھاری دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں کیونکہ میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی موجودہ حالت کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کا عہدہ اعلیٰ ہے کیونکہ اس میں انصاف ہوتا ہے جو ایک خدائی صفت ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے مخصوص کیا ہے۔ اس لیے اب ہماری واحد امید آپ کے اعلیٰ عہدے سے وابستہ ہے۔

متن میں کہا گیا ہے کہ آپ ارشد شریف کے بہیمانہ قتل سے واقف ہوں گے۔ جس انداز میں اسے انجام دیا گیا اس نے ان تمام لوگوں کے لیے لرزہ اور دہشت کی لہریں بھیجیں جو صحافت کے اصولوں پر قائم رہنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

خط میں لکھا گیا کہ  دہشت گردی کے اس عمل نے نہ صرف صحافی کے خاندان کو بلکہ پوری برادری اور پوری قوم کو شدید ذہنی صدمہ پہنچایا ہے۔ کچھ بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہے۔

پی ایف یو جے کے خط کے متن کہا ہے کہ اب تک جو معلومات دستیاب ہیں اس سے کچھ سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ مقتول صحافی اور اس کے غمزدہ خاندان کو کون انصاف فراہم کرے گا ۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اب ہمارا واحد آپشن ایک کمیشن کی تشکیل ہے جس کی سربراہی پاکستان کی سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد شریف قتل: فیصل واوڈا تضاد بیانی میں مبتلا، کاشف عباسی کوجوابات دینے سے قاصر

مقتول صحافی کے اہل خانہ اور صحافی برادری نے پہلے ہی سپریم کورٹ کے معزز جسٹس کی سربراہی میں قائم کمیشن پر اپنا اعتماد ظاہر کر دیا ہے جو نہ صرف تحقیقات کرنے کی قابلیت رکھتا ہے بلکہ تجربہ اور اختیار بھی رکھتا ہے۔

چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس خط کو ایک پٹیشن میں تبدیل کریں اور اس کیس کی از خود سماعت کا مطالبہ کریں تاکہ پوری قوم ان ناانصافیوں کے زہر سے سکون کا سانس لے جس کا ہم اکثر شکار ہوتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر