سپریم کورٹ کا بڑا حکم : سیاسی و عوامی عہدیداروں پر پابندی عائد کردی
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے، سرکاری وسائل پر ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور یہ آئین کے بھی منافی ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا سرکاری املاک پر ذاتی تشہیر کیلئے تصاویر چسپاں کرنا اخلاقی اقدار کو مجروح کرتا ہے

سپریم کورٹ نے سرکاری دفاتر میں سیاستدانوں کی تصویریں لگانے پر پابندی عائد کردی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سرکاری عمارتوں، حکومتی منصوبوں اور دستاویزات پر سیاسی رہنماؤں اور عوامی عہدیداروں کی تصاویر لگانے سے روکنے کا حکم دیا ہے ۔
سپریم کورٹ میں راولپنڈی کچی آبادی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سرکاری عمارتوں، حکومتی منصوبوں اور دستاویزات پر سیاسی رہنماؤں اور عوامی عہدیداروں کی تصاویرلگانے پر پابندی عائد کردی ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سپریم کورٹ میں داخلے سے روک دیا گیا
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بدھ کو ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے حکام کو سرکاری عمارتوں، منصوبوں اور دستاویزات پر سیاستدانوں اور عوامی عہدوں کے حامل افراد کی تصاویر آویزاں کرنے سے روک دیا۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے فیصلے میں کہا کہ سرکاری وسائل پر ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں جہاں عوام حکمرانوں کے سامنے جھک جائیں۔
احکامات راولپنڈی کچی آبادی کیس میں جسٹس عیسیٰ کے تحریر کردہ پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری وسائل کی قیمت پر ذاتی تشہیر حلف کے بھی منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو پارلیمنٹ میں جانے کا مشورہ
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جمہوری ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے چوکنا رہنا ہوگا، سرکاری املاک پر ذاتی تشہیر کے لیے تصاویر چسپاں کرنا اخلاقی اقدار کو مجروح کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی کچی آبادی سے متعلق وقف املاک راولپنڈی کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے کچی آبادی کی زمین خالی کروانے کے لیے درخواست پر فیصلہ جاری کردیا جوکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا۔









