ارشد شریف قتل کیس: ایف آئی اے نے تسنیم حیدر کو طلب کرلیا
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ارشد شریف قتل کیس میں اپنا بیان ریکاڑد کروانے کے لیے تسنیم حیدر شاہ کو شواہد سمیت طلب کرلیا ،تسنیم حیدر نے دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف نے مجھے عمران خان اور ارشد شریف کے قتل کی سازش تیار کرنے کے لیے اجلاس میں بلایا گیا تھا

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے معروف صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے تسنیم حیدر شاہ کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے جمعرات کو طلب کرلیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ارشد شریف قتل کیس میں اپنا بیان ریکاڑد کروانے کے لیے تسنیم حیدر شاہ کو شواہد سمیت 29 نومبر (منگل) کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
مجھے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں، تسنیم حیدر شاہ کا شریف فیملی پر ایک اور سنگین الزام
پیشرفت تسنیم حیدر شاہ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے اعلیٰ عہدیداروں پر سنگین الزامات عائد کرنے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان اور سینئر صحافی ارشد شریف کو قتل کرنے کی سازش لندن میں تیار کی گئی تھی۔
لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لندن میں حسین نواز کے دفتر میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے تین ملاقاتیں کیں۔
تسنیم حیدر نے دعویٰ کیا تھا کہ میں گزشتہ 20 سال سے مسلم لیگ ن سے وابستہ ہوں۔ مجھے عمران خان اور ارشد شریف کے قتل کی سازش تیار کرنے کے لیے اجلاس میں بلایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ نواز شریف سے پہلی ملاقات 8 جولائی، دوسری 20 ستمبر اور تیسری 29 اکتوبر کو ہوئی۔ مجھے نئے آرمی چیف کی تقرری سے پہلے ارشد شریف اور پھر عمران خان کو ختم کرنے کا کہا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
تسنیم حیدر کے نواز شریف پر سنگین الزامات: کیا ن لیگ لندن میں قانونی کارروائی کرےگی؟
تسنیم حیدرنے دعویٰ کیاتھا کہ ناصربٹ نے میرا تعارف نواز شریف سے گجرات کے ایک بااثر شخص کے طور پر کروایا۔ نواز شریف کو بتایا گیا کہ تسنیم حیدرکے شوٹرز سے رابطے ہیں جو ٹاسک مکمل کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ سینئر صحافی ارشد شریف کو 23 اکتوبر کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں قتل کر دیا گیا تھا جہاں وہ خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔









