غیرمشروط معافی پر سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم کردی

کیس کی سماعت میں فیصل واوڈا نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ عدالت سے غیرمشروط معافی مانگتے ہیں، تاہم ان کی جھوٹا بیان حلفی دینے کی نیت نہیں تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور سابق سینیٹر فیصل واوڈا نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ انہوں نے امریکی شہریت کے حوالے سے جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا تھا،سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے سینیٹ کی نشست سے بھی مستعفیٰ ہوگئے۔جس پر سپریم کورٹ نے ان کی تا حیات نا اہلی ختم کر دی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے فیصل واوڈا کے بیان حلفی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت میں فیصل واوڈا نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ عدالت سے غیرمشروط معافی مانگتے ہیں، تاہم ان کی جھوٹا بیان حلفی دینے کی نیت نہیں تھی، عدالت کا جو حکم ہو گا وہ قبول ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان نے پاکستان ایئر فورس کا طیارہ کس حیثیت سے استعمال کیا؟ ناقدین کا سوال

اس سے قبل سماعت شروع ہوئی تو عدالت عظمٰی کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا نے 3 سال تک قومی اسمبلی کی رکنیت رکھی، عدالت کا مقصد آپ کو یہاں بلاکر شرمندہ کرنا نہیں ہے لیکن آپ نے تین سال تک سب کو گمراہ کیا، عدالت کے سامنے پہلے معافی مانگیں اور پھر کہیں کہ مستعفیٰ ہوتا ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت کے سامنے معافی مانگ لیں گے اور اچھی نیت سے استعفی دیں گے تو نااہلی 5 سال کی ہو گی، استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں آپ کے خلاف 62 ون ایف کی کاروائی ہو گی۔

چیف جسٹس نے فیصل واوڈا  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کے قانون کے مطابق آپ رکن اسمبلی بننے کے اہل نہیں تھے، 15 جون 2018 کو آپ نے امریکی شہریت ترک کرنے کی درخواست دی لیکن شہریت ترک کی نہیں تھی۔

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ جو آپ سے کہا جا رہا ہے وہ عدالت کے سامنے خود کہیں، جس پر فیصل واوڈا نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ اچھی نیت سے خود استعفی دیا، آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی تسلیم کرتا ہوں۔

سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی غیر مشروط معافی تسلیم کرتے ہوئے فیصل واڈا کے خلاف الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے دیا جب کہ فیصل واوڈا کو حکم دیا کہ وہ اپنا استعفی فوری چیئرمین سینیٹ کو بھیجنے کا حکم بھی دیا۔عدالت عظمٰی نے فیصلہ میں کہا کہ فیصل واوڈا آئندہ عام انتخابات اور سینیٹ الیکشن لڑنے کے اہل ہوں گے۔

متعلقہ تحاریر