عمران خان نے تمام صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کردیا

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نہیں جانا کیونکہ وہاں تباہی مچے گی ، اس لیے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ تین مجرموں نے سازش کرکے مجھے قتل کرانے کی کوشش کی ، مجھے کہا گیا مجھ پر دوبارہ حملہ ہوسکتا ہے، موت کا خوف ایک آزاد قوم کو غلام بنادیتا ہے ، جب لاہور سے نکلا تو کہا گیا سفر کرنا آپ کے مشکل ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار چیئرمین تحریک انصاف عمران ںے راولپنڈی میں حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا پہلے تو میں دیر سے آنے پر معذرت چاہتا ہوں ، مجھے پیغام مل رہے تھے کہ  ابھی ہم سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں اس لیے اپنی تقریر جلدی نہ کرنا۔ ابھی لوگ دور آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

قاتلانہ حملے کے 23 دن بعد عمران خان پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی قیادت کے لیے تیار

نواز شریف اپنی ذات کے لیے اس ملک کو داؤ پر لگا رہا ہے، عمران خان

عمران خان کا کہنا تھا میں جب لاہور سے نکل رہا تھا تو مجھے دو چیزیں سب نے کہیں ، کہا گیا آپ کی ٹانگ کی ایسی حالت نہیں کہ آپ سفر کرسکیں ، ٹانگ کو ٹھیک ہونے میں تین ماہ مزید لگیں گے ۔ دوسری بات یہ کہی گئی کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، وہ تین مجرم ، جنہوں نے مجھے اس حالت پر پہنچایا ، تین مجرموں نے پوری سازش کرکے قتل کرنے کی کوشش کی ، وہ ابھی بھی بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں ، مجھے کہا گیا کہ وہ پھر سے واردات کرسکتے ہیں ، اس لیے آپ کو گھر سے  نہیں نکلنا چاہیے ، آج میں اپنے نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں ، میں موت کو بڑے قریب سے دیکھ لیا ہے ، جب میری ٹانگ میں گولیاں لگیں تو گر گیا ، میں دیکھا گولیاں میرے سر کے پاس سے گزریں ، اگر میں گرتا نہ تو گولیاں مجھے لگ جاتیں۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا میرا نوجوانوں کو پیغام ہے اپنے ایمان کو مضبوط کریں ، صرف ایک اللہ کو خدا تسلیم کریں ، قرآن میں واضح لکھا ہے جب تک اللہ کی مرضی نہیں ہو گی تم اس زمین سے نہیں جاؤ گے ، مگر جب فیصلہ ہوگیا تو کہیں بھی چھپ جائیں آپ نہیں بچ سکتے۔ کنٹینر پر 12 لوگوں کو گولیاں لگیں مگر ایک بھی اللہ کو پیارا نہیں ہوا ، ایک گارڈ کو چھ گولیاں لگیں، اگر آپ نے صحیح معنوں میں زندگی گزارنی ہے تو موت کے خوف سے اپنے آپ کو آزاد کریں۔ خوف بڑے انسان کو چھوٹا انسان بنا دیتا ہے ، خوف ایک قوم کو غلام بنا دیتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ حضرت امام حسین کی شہادت ہے ، قوفہ والوں کو یزید کے ظلم کا خوف تھا اس لیے انہوں نے حق پر ہونے کے باوجود امام حسین کا ساتھ نہیں دیا۔ ذلت کا خوف انسان کو کمزور کردیتا ہے ، مجھے پچھلے 7 مہینوں میں بلکہ 26 سال کی سیاست میں انہوں نے مجھے ذلیل کرنے کی بےانتہا کوشش کی گئی۔ ہرقسم کی کردارکشی کی گئی ، کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ کسی طرح سے ہم عمران خان کو ذلیل کریں ، کیونکہ یہ ہمیں چور کہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا آج جس تعداد میں عوام نکلیں ہیں مجھے بتایا جائے کسی وزیراعظم کے لیے ایسی تعداد میں عوام نکلیں ہیں جیسے آج نکلے ہیں ، اس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے ، کوئی آپ کو ذلیل نہیں کرسکتا ، لوگ اپنے نوکریاں بچانے کےلیے غلط کام کرتے ہیں ، کیونکہ انہیں رزق کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ جب تک آپ کا اللہ پر ایمان کامل نہیں ہوگا آپ لوگ آزاد نہیں ہوسکتے۔

عمران خان کا کہنا تھا آزاد انسان بڑے بڑے کام کرتے ہیں ، آزاد ملک اوپر  کی جانب ترقی کرتے ہیں ، غلام صرف اچھی غلامی کرتے ہیں ، غلام کی کوئی پرواز نہیں ہوتی ، صرف آزاد انسانوں کی پرواز ہوتی ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا آج پاکستان ایک فیصلے کی گھڑی پر کھڑا ہے ، آج پاکستانیوں کے پاس دو راستے ہیں ، اب جو حکومت میں ہیں ان کو این آر او دے دیا گیا ہے ، وہ گنگا میں نہا کر پاک ہو گئے ہیں ، اگر ہم اس ظلم اور ناانصافی کو برداشت کرتے رہیں گے تو یہ ہمیشہ چلتا رہے گا۔ انسانوں اور جانوروں کے معاشرے میں فرق صرف ایک ہوتا ہے ، انسانوں کے معاشرے میں انصاف ہوتا ہے جبکہ جانوروں کے معاشرے میں جنگل کا قانون ہوتا ہے، پاکستان ایک عظیم ملک نہیں بنا تو اس کی ایک وجہ ہے ،  کہ ہمارے ملک میں کبھی بھی قانون کی حکمرانی نہیں آئی ۔ طاقت کی حکمرانی اور جنگل کا قانون رہا ہے ، کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس میں انصاف نہیں ہوتا۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا ضمنی انتخابات میں قوم نے بار بار امپورٹڈ حکومت کو مسترد کیا، انہوں نے معیشت کو تباہ کیا ہماری پارٹی اور مضبوط ہو گئی ، گزشتہ 7 مہینوں کے دوران میرے ساتھ ملک دشمنوں جیسا سلوک کیا گیا ، میرے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کرایا گیا ، جب تک طاقتور قانون کے نیچے نہیں آئے گا ملک ترقی نہیں کرسکتا ، ملک میں انصاف ہوگا تو تھانہ کچہری کی  سیاست ختم ہو جائے گی۔ تاریخ لکھی جارہی ہے کہ کیا اس نے ملک کا نقصان کیا یا فائدہ۔جس نے اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا ، عوام کے حقوق کو روندا تاریخ اسے بھی دیکھ رہی ہے، تاریخ گواہی دے گی عمران خان ملک کے لیے آخری وقت تک کھڑا رہا ، میں اپنے خون کے آخری قطرے تک اس ملک کے لیے لڑوں گا ، 30 سال تک ملک سے باہر مگر دوسرے پاسپورٹ کی کبھی کوشش نہیں کی ، میرا جینا میرا مرنا پاکستان میں ہے ، میری ملک سے باہر کوئی جائیداد نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معظم شہید کو گولی شوٹر نہیں ماری ، اس کو کسی اور کی گولی لگی ، حملہ آور نے شوٹر کو گولی مارنی تھی مگر راستے میں معظم شہید آگیا ، مجھ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے شوٹر کو بھی قتل کیا جانا تھا ، اس طرح جس طرح لیاقت علی خان کے قاتل کو قتل کیا گیا ،

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہماری حکومت ہے مگر پولیس ہماری ایف آئی آر ہماری مرضی سے درج کرنے میں تعاون نہیں کررہی ، طاقتور کا اتنا خوف ہے مگر ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ، پولیس والا کہتا ہے مجھے ہٹا کر کسی اور کو بٹھا دیں مگر میں ایف آئی آر پر دستخط نہیں کرسکتا ، سابق وزیراعظم ہونے کے باوجود اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج نہیں کرواسکا ، چوروں کے ٹولے نے انسانی حقوق کی بدترین خلاف وزری کی ،میڈیا کو دھمکیاں دی گئیں کہ پی ٹی آئی کی کوریج نہ کی جائے۔

چئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت صرف ایک چیز میں فیل ہوئی ، اور وہ ہے طاقتور کو قانون کے نیچے نہ لانا ، اسٹیبلشمنٹ ان چوروں کو جیل میں ڈالنے کے بجائے ڈھیل دے رہی ہے ، اسٹیبلشمنٹ کو ہر میٹنگ میں کہتا تھا کہ ان چوروں کو جیل میں ڈالا جائے لیکن آگے سے کہا جاتا تھا عمران صاحب پاکستان کی ترقی کی طرف دھیان دیں ان کو چھوڑیں ان کے پیچھے مت پڑیں۔

اہم اعلان کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا ہم نے تمام صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، حتمی فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد کریں گے کہ اسمبلیاں کب تحلیل کرنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا میں نے ہمیشہ آئین اور قانون کے اندر رہ کر سیاست کی۔ اسلام آباد گئے تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر