نئے آرمی چیف کو سونپی جانے والی چھڑی کی تاریخی حیثیت کیا ہے؟

کمان کی یہ چھڑی انگریز لائے تھے اور تب سے یہ روایت کا حصہ چلی آرہی ہے۔

پاکستان کی فوج کے نئے سربراہ جنرل عاصم منیر نے راولپنڈی میں منعقدہ تقریب میں باضابطہ طور پر بری فوج کی کمان سنبھال لی ہے۔

جنرل عاصم منیر نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ فوج کی کمان لی ہے جو چھ سال تک پاکستان کی بری فوج کے سربراہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وزارت داخلہ نے اسلام آباد نہ پہنچنے والے لانگ مارچ پر 25.63کروڑ روپے اڑادیے

جنرل عاصم منیر سید نے 17ویں آرمی چیف کی حیثیت سے فوج کی کمان سنبھال لی

جنرل عاصم منیر پاکستان کے بری فوج کے 17ویں سربراہ ہیں۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب منگل کی صبح راولپنڈی میں واقع بری فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں اور ’کمانڈ اسٹک‘ نئے فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کو سونپی یعنی پاکستان کی بری فوج کی قیادت کی یہ چھڑی اب جنرل عاصم منیر کے ہاتھ میں ہوگی۔

مگر اس چھڑی کی کہانی کیا ہے؟ یہ کہاں سے آئی اور اسے کون لایا؟ پاکستان کی فوج میں بریگیڈیئر اور اس سے اوپر کے عہدے میں ترقی پانے والے ہر افسر کو ایک چھڑی سونپی جاتی ہے۔ ’کمانڈ اسٹک‘ یا ’بیٹن‘ کہلانے والی یہ چھڑی کسی عہدے کی ذمہ داریوں کی منتقلی کا علامتی نشان ہوتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار اور فوج سے ریٹائرڈ بریگیڈیئر شوکت قادر اس بارے میں بتایا کہ کمان کی یہ چھڑی انگریز لائے تھے اور تب سے یہ روایت کا حصہ چلی آ رہی ہے۔

بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر نے بتایا کہ یہ بیٹن سنگاپور سے منگوائے گئے ملاکا کین سے تیار کی جاتی ہے اور ون سٹار افسر یعنی بریگیڈیئر سے اوپر کے افسران کو ملتی ہے۔

شوکت قادر کے مطاق ہر پرانا افسر اپنے بعد آنے والے افسر کو یہ چھڑی سونپتے ہوئے ایک نئی چھڑی تھام کر نئے عہدے پر ترقی کر جاتا ہے۔ فوجی افسر کی یہ چھڑی ٹوٹ بھی جائے تو اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔

متعلقہ تحاریر