نکاح کیلئے مولوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، "جنریشن” کا دعویٰ

ملبوسات کے برانڈ "جنریشن" (Generation) کو خواتین کے نکاح خواہوں سے حوالے سے تجویز پیش کرنے پر شدید ردعمل کاسامنا کرنا پڑرہا ہے، "جنریشن" (Generation) برانڈ نے 14 دسمبر کو ایک تصویر اس کیپشن کےساتھ شیئر کی کہ  آپ کا نکاح کوئی بھی مولوی، بالغ شخص، خالہ یا آپ کا قابل بھروسہ دوست  آپ کے نکاح کی ذما داری ادا کرسکتے ہیں

ملبوسات کے برانڈ "جنریشن” (Generation) کو خواتین کے نکاح خواہوں سے حوالے سے تجویز پیش کرنے پر شدید ردعمل کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ۔

ایک مشہور ملبوسات کے برانڈ "جنریشن” (Generation) کوخواتین نکاح خواہوں کی حمایت کرنے پر سوشل میڈیا پر ردعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔  خواتین نکاح خواہو ں سے متعلق تجویزنے مختلف نقطہ نظر کو سامنے لایا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

گلشن حدید سے لاپتہ 31 سالہ خاتون نے لاہور جاکر نکاح پر نکاح کرلیا

"جنریشن” (Generation) برانڈ نے 14 دسمبر کو  ایک تصویر اس کیپشن کےساتھ شیئر کی کہ  "آپ کا نکاح کوئی بھی مولوی، بالغ شخص، خالہ یا آپ کا قابل بھروسہ دوست  آپ کے نکاح کی ذما داری ادا کرسکتے ہیں۔

"جنریشن” (Generation) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ پاکستانی آئین کے مطابق قانونی عمل ہوگا۔ یہ سینٹر فار ہیومن رائٹس کے  تعاون سے پاکستان میں شادی کے قوانین پر ایک مہم ہے۔

سعدیہ واصف نامی سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ  یہ "جنریشن” کا فلاپ شو تھا۔ تمام بالغ مسلمان سنت کے مطابق نکاح کی رسم ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ نکاح خواں نہیں چاہتے ہیں تو اپنے نکاح کا خطبہ دیںمگر سنتوں کو ختم کرنا کوئی آپشن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاغذی کارروائی پوری کرنا بات ہے لیکن سنت کو پورا کرنا ضروری ہے اور نکاح کے صحیح ہونے کیلئے ولی بھی ضروری ہے۔ اپنے خیالات اپنے پاس رکھیں۔

سعدیہ واصف کو جواب دیتے ہوئے "جنریشن” (Generation) کے ناظم نے کہا کہ ہیلو سعدیہ، ہم اس شخص کے بارے میں بات کررہے ہیں جو دو افراد کے درمیان نکاح کرتا ہے۔ جنس یا حیثیت سے قطع نظر کوئی بھی  شخص اسے انجام دے سکتا ہے۔

 

"جنریشن”  ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ نکاح نامہ بیکار ہے یا اسے ضائع کرنے کی ضرورت ہے یا کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ براہ کرم شروع سے ہی پوری مہم کو فالو کریں کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اس طرح کی باتیں زیادہ نقصان دہ ہیں۔

سعدیہ واصف ایک بار پھر جنریشن کو جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ نکاح ایک مذہبی بندھن اور رسم ہے، جس کی مکمل طور پر سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحت کی گئی ہے اور وہ اپنے دور میں صحابہ کے لیے کیسے عمل کرتے تھے۔ تو یہ بہترین طریقہ ہے۔

سعدیہ نے کہا کہ جب ہم جانتے ہیں کہ سب سے بہتر کیا ہے، تو کیا ہمیں ان طریقوں کو فروغ دینا چاہیے جو بہترین ہیں اور ہمارے پاس ترمذی شریف کی ایک حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپنا نکاح مسجد میں کرو۔

عافیہ سلام نے لکھا کہ ’’نکاح کوئی مذہبی بندھن نہیں بلکہ ایک سول معاہدہ ہے جس میں گواہوں کے سامنے نیت کا بیان ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک مخصوص فرقہ ہی ولی کی موجودگی کو اہم سمجھتا ہے اس لیے یہ بھی کوئی عالمگیر اسلامی اصول نہیں ہے ۔

جنریشن نے ایک اور تبصرے میں کہا، "مسلم فیملی لاء آرڈیننس، 1961 کا سیکشن 5 کسی بھی جنس کی وضاحت کیے بغیر، نکاح کے ذمہ دار / عہدہ دار کے لیے ایک "شخص” کا حوالہ دیتا ہے۔ لہذا، قانون پاکستان میں شادی کرنے والی خواتین پر کوئی پابندی نہیں لگاتا۔

معتصم جاوید نے استدلال کیاکہ "مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 5 شق 1 میں کہا گیا ہے کہ” "مسلم قانون” کے تحت ہونے والی ہر شادی اس آرڈیننس کی دفعات کے مطابق رجسٹر کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں واضح طور پر مسلم قانون کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں دوبارہ دلہن کے لیے ولی کی شرط ضروری ہے۔ اگر میری سمجھ میں کوئی خلا ہے تو براہ کرم مجھے روشن کریں ۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب حکومت کا احسن اقدام ، نکاح نامے میں ختم نبوتﷺ کی شق شامل

مریم خالد قریشی نے کہاکہ  نکاح کا سیدھا مطلب ہے دنیا کو یہ اعلان کرنا کہ آپ نے اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کیا ہے اور ہاں یہ آپ کے لیے کوئی بھی کرسکتا ہے۔ ہمیں نکاح کے لیے کسی مخصوص مولوی کی ضرورت نہیں ہے۔

ملبوسات کے برانڈ نے متعدد تبصروں پر واضح کیا کہ پوسٹ کا مقصد لوگوں کو نکاح خواں اور نکاح ناموں کے قانونی اور مذہبی زاویوں سے آگاہ کرنا تھا۔ یہ مہم تعلیم اور آگاہی کے مقاصد کے لیے ہے۔

 ایک تبصرے میں لکھا گیا، "آپ کو اسلامی قانون (جس کی نگرانی مفتی اور علمائے کرام کرتے ہیں) کے ساتھ ساتھ پاکستان کا قانون (جو اسلامی قانون پر مبنی ہے) کو پڑھنا چاہیے۔ یہ بالکل قانونی ہے۔

متعلقہ تحاریر