بلوچستان دہشتگردوں کے نشانے پر: مختلف اضلاع میں دہشتگردوں کے سیکیورٹی فورسز پر 8 حملے

کوئٹہ ، کوہلو ، ژوب ، حب ، خضدار ، تربت اور قلات میں دہشگردی کے مختلف واقعات میں کیپٹن سمیت 6 جوان شہید جبکہ 23 افراد زخمی ہو گئے۔

بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر آگیا۔ کوئٹہ، کوہلو، ژوب، حب، خضدار ، تربت اور قلات سمیت صوبے کے آٹھ اضلاع میں نو بم دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں کیپٹن سمیت چھ افراد شہید اور 23 افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکوں کے بعد کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔

بلوچستان میں اتوار کو دہشت گردی کے واقعات میں اچانک اضافہ ہوگیا اور دہشت گردوں نے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

بلوچستان کے علاقے کاہان میں کلیئرنس آپریشن کے دوران بارودی سرنگ کے دھماکے میں کیپٹن سمیت 5 جوان شہید ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز مصدقہ اطلاعات پر بلوچستان میں واقع ضلع کوہلو کے علاقے کاہان میں کلیئرنس آپریشن میں مصروف تھیں کہ اس دوران بارودی سرنگ کا دھماکا ہوگیا۔

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شہید ہونیوالوں میں کیپٹن فہد، لانس نائیک امتیاز، سپاہی اصغر مہران اور سپاہی شمعون شامل ہیں۔

ژوب میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے ضلع ژوب میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں سپاہی حق نواز شہید جب کہ دو جوان زخمی ہوگئے، مقابلے میں ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔

کوئٹہ میں دستی بم حملے

کوئٹہ میں چھ گھنٹوں کے دوران یکے بعد دیگرے تین بم دھماکے ہوئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’تینوں بم دھماکے دستی بم کے تھے جو نامعلوم افراد نے پولیس اور ایف سی کو نشانہ بنانے کے لیے پھینکے تھے۔‘

’دھماکوں میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے۔

1: پہلا دھماکہ کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر پولیس تھانہ امیر محمد دستی کے باہر ہوا،جہاں ملزمان نے دو دستی بم پھینکے گئے جن میں سے ایک دھماکے سے پھٹ گیا جبکہ دوسرے کو بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔اس واقعہ میں بچی  اور خاتون سمیت چار راہ گیر زخمی ہوگئے۔

2: دوسرا دھماکہ کوئٹہ میں واقع سیٹلائٹ ٹاؤن تھانے کی حدود میں پولیس ناکے پر ہوا ، جس میں تین پولیس اہلکار اور پانچ راہ گیر زخمی ہوگئے۔

3: شہر میں تیسرا بم دھماکہ سریاب روڈ پر واقع موسیٰ کالونی میں ریلوے پٹڑی کے قریب ہوا۔

حب میں پولیس تھانے پر حملہ

ضلع حب میں پولیس تھانہ صدر کے باہر دھماکہ ہوا۔ جس میں تین افراد زخمی جبکہ دو موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں۔

حملے میں زخمی ہونیوالوں میں محمد موسیٰ، عبدالغفور اور امان اللہ شامل ہیں۔

خضدار میں دستی بم حملہ

خضدار کے علاقے سٹی میں بھی پولیس پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کردیا۔

پولیس کے مطابق دستی بم حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

قلات میں ٹرالر پر دستی بم حملہ

قلات میں بھی قومی شاہراہ پر ماربل لے جانے والے ٹرک پر دستی بم حملہ ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

محکمہ صحت بلوچستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر اور سول اپستال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق کوئٹہ کے دھماکوں میں زخمی ہونے والے چار افراد کو سول اسپتال پہنچایا گیا جنہیں طبی امداد دی گئی۔

زخمیوں میں 25 سالہ قیوم ولد محمد رحیم، 28 سالہ زبیر احمد ولد شیر محمد، 17 سالہ کاٸنات دختر زاہد عمر اور 13 سالہ بی بی حوا دختر محمد اسلم شامل ہیں۔

ضلع کیچ میں ایف سی کی چوکی پر دستی بم حملہ

ضلع کیچ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت میں تعلیمی چوک پر نامعلوم افراد کی جانب سے دستی بم پھینکا گیا جو ایف سی کی چوکی سے کچھ فاصلے پر گر کر دھماکے سے پھٹ گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اتور کو ہی تربت میں ایف سی کی جوسک چیک پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

گذشتہ سے پیوستہ

یاد رہے کہ تربت میں دو روز قبل بھی ایف سی کے قافلے پر نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے چار اہلکار  جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

دھماکوں کے بعد کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے سبزل روڈ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں کئی افراد کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی، ساتھ ہی آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ شہر میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنایا جائے۔

متعلقہ تحاریر