دن بھر بجلی کے ستائے عوام سے وفاقی وزیر توانائی کا بہترین مذاق
خرم دستگیر خان کا کہنا ہے کہ الحمدللہ ہم نے وزیراعظم کی زبردست قیادت میں ملک بھر میں بجلی کی بحالی شروع کر دی ہے۔ جس پر سماجی حلقوں نے انہیں خوب تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ملک میں بجلی کے تاریخی بریک ڈاؤن کے 24 گھنٹے کے بعد بھی پورے ملک میں بجلی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہے ، جبکہ وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے تقریبا 12 گھنٹے قبل دعویٰ کیا تھا کہ بجلی کی بحالی کا عمل شروع کردیا ہے ، سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کیسا مذاق ہے کہ خرم دستگیر دعوے ایسے کررہے جیسے کسی دشمن ملک نے ہماری بجلی بند کردی تھی اور انہوں نے وزیراعظم کی قیادت میں دوبارہ بجلی واپس حاصل کر لی ہے۔
سماجی رابطوں کی سب سے ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان نے لکھا ہے کہ "الحمدللہ ہم نے ملک بھر میں بجلی کی بحالی شروع کر دی ہے۔”
یہ بھی پڑھیے
سربراہ پاک فضائیہ سے کمانڈر امریکی ایئر فورسز سینٹرل کمانڈ کی ملاقات
وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خرم دستگیر خان نے مزید لکھا ہے کہ "یہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت اور ان کی زیر قیادت کثیر الجماعتی حکومت میں ممکن ہوا ہے۔”
[]Alhamdulillah we have begun restoration of electricity across the country
This is made possible in leadership of PM Shehbaz Sharif & the multi-party government he leads.
[] pic.twitter.com/3Amgibvcgp— Engr. Khurram Dastgir-Khan (@kdastgirkhan) January 23, 2023
خرم دستگیر کو مخاطب کرتے ہوئے سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر بتائیں گے کہ شہباز شریف صاحب میں بجلی کی بحالی کے لیے کون سی قائدانہ صلاحیتیں استعمال کیں؟ خرم دستگیر بتانا پسند کریں گے کہ قیادت قومی نے گرڈ کو بحال کرنے میں کس طرح مدد ہے؟ کیا خرم دستگیر یہ بتانا پسند کریں گے کہ کس کی نااہلی سے سارا سسٹم ٹرپ ہوا؟۔
سماجی حلقوں نے خرم دستگیر خان پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ کی اجازت ہو تو وزیراعظم شہباز شریف کو انجینیئر شہباز شریف لکھنا شروع کردیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز صبح 7 بجکر 35 منٹ پر ملک کے سب سے بڑی تاریخی بریک ڈاؤن کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، کراچی ، لاہور ، کوئٹہ اور پشاور سارا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا۔
کوئٹہ اور گڈو کے درمیان ہائی ٹینشن بجلی کی سپلائی لائن میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت 22 اضلاع مکمل طور پر بجلی سے محروم ہو گئے۔
اسلام آباد کو بجلی سپلائی کرنے والے 117 گریڈ اسٹیشنز سے بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بند ہو گئی۔
24 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی لاہور کے علاقے مال روڈ اور کینال روڈ کے کئی علاقے ابھی بجلی کی بحالی سے محروم ہیں۔
اس طرح سے صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور معاشی حب کراچی کے متعدد علاقے ابھی بجلی سے محروم ہیں ، یہاں تک کراچی کے سب سے مہنگے اور پوش ترین علاقے کلفٹن اور ڈیفنس میں ابھی تک مکمل بجلی نہیں ہو سکی ہے۔
آج صبح بجلی کی پیداوار 7,000 میگاواٹ سے کم تھی، باخبر ذرائع نے بتایا کہ ’’6000 میگاواٹ تک بجلی کی پیداوار ہو رہی تھی‘‘۔
ذرائع نے بتایا کہ مختلف تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے 12 سے زائد پاور پلانٹس پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ گڈو، جامشورو، مظفر گڑھ پاور پلانٹس نہیں چل رہے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم پاور پراجیکٹ تکنیکی خرابی کے باعث گزشتہ آٹھ ماہ سے بند ہے۔









