بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات: آزاد امیدواروں نے میدان مارلیا
اب تک کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق 2400 میں 1487 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی سمیٹ لی ہے۔
بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں اب تک کے نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا ، مختلف ریجنز میں آزاد امیدوار 1 ہزار 487 نشستیں لے اڑے ۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) 260 نشستوں پر میدان مارلیا ، بلوچستان عوامی پارٹی نے 213 نشستوں پر فاتح حاصل کرلی ، نیشنل پارٹی 100 ، پی کے میپ 88 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے 58 نشستوں پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں ، بی این پی 79 نشستیں لی اڑی ہے۔ بی این پی عوامی 43 ، اے این پی 24 ، پی ٹی آئی 23 ، جمہوری وطن پارٹی 18 ، ن لیگ 15 اور جماعت اسلامی کے حصے میں 7 سیٹیں آئی ہیں۔
اتوار کی شام بلوچستان کے 34 میں سے 32 اضلاع بلدیاتی اںتخابات کے لیے ہونے والی پولنگ کے بعد سے نتائج کے آنے کاسلسلہ جاری ہے۔
غیر تصدیق شدہ اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق اب تک 2400 سے زائد نشستوں کے نتائج آ گئے ہیں جن میں سے آزاد امیدوار 1487 نشستیں لے اڑے ہیں ، جبکہ جی یو آئی (ف) دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے انہوں نے 260 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (100)
بلوچستان عوامی پارٹی (213)
حق دو تحریک (گوادر تحریک) (60)
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (PkMAP) (88)
نیشنل پارٹی (این پی) (100)
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) (58)
پاکستان مسلم لیگ ن (15)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) (23)
عوامی نیشنل پارٹی (24)
پاک سرزمین پارٹی (05)
گوادر تحریک
گوادر سے حیران کن نتائج سامنے آئے کیونکہ غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق مولانا ہدایت الرحمان کے امیدوار بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں جے یو آئی-ف، بی این پی اور چار جماعتی اتحاد کو شکست دے کر مضبوط دعویدار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
غیر سرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق گوادر سٹی میں میونسپل کمیٹی کی 42 میں سے حق دو تحریک (گوادر تحریک) نے 27 نشستوں پر قبضہ جما لیا ہے۔
یہ تازہ ترین نتائج ہیں:
قلات ڈویژن: آواران، لات، کوزدار، مستونگ، سوراب، لورالائی ڈویژن، بارکھان، دکی، لورالائی،
لورالائی میونسپل کمیٹی کے 25 میں سے 24 وارڈز کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق بی اے پی 17 وارڈز میں، چار میں آزاد جبکہ پی کے میپ اور جے یو آئی ف ایک ایک نشست پر آگے ہیں۔
موسیٰ خیل، مکران ڈویژن، گوادر
گوادر میونسپل کمیٹی کے 157 وارڈز میں سے 106 کے غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق 52 وارڈز میں حق دو تحریک، 34 میں آزاد، 14 میں بی این پی، دو میں نیشنل پارٹی اور ایک پر جے یو آئی ف کو برتری حاصل ہے۔
کیچ، پنگور، نصیرآباد ڈویژن، جعفرآباد، جھل مگسی، کچی، نصیرآباد، صحبت پور، کوئٹہ ڈویژن، چمن
چمن میونسپل کارپوریشن کے 35 میں سے 34 وارڈز کے غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق پی کے میپ 12 ، جے یو آئی (ف) 6 ، اے این پی 5 اور بی اے پی اور اولسی موومنٹ 4 پر آگے ہے۔ تین نشستوں پر آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔
قلعہ عبداللہ، پشین، رخشان ڈویژن، چاغی، خاران، نوشکی، واشک
میونسپل کمیٹی وارشک کے 10 میں سے 9 وارڈز کے غیر تصدیق شدہ اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جے یو آئی (ف) 7 نشستوں پر برتری حاصل کر چکی ہے جبکہ بی اے پی 3 نشستوں پر آگے ہے۔
سبی ڈویژن، ڈیرہ بگٹی
میونسپل کمیٹی ڈیرہ بگٹی کے 11 وارڈز میں سے شاہ زین بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) 9 نشستوں پر برتری حاصل کر چکی ہے جبکہ باقی 2 نشستوں پر آزاد امیدوار آگے ہیں۔
ہرنائی
میونسپل کمیٹی ہرنائی کے 30 وارڈز میں سے پی کے میپ نے اب تک 13 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس دوران آزاد امیدواروں نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پی ٹی آئی اور بی اے پی نے 3 ، 3 نشستیں حاصل کیں۔
کوہلو، سبی، زیارت، ژوب ڈویژن، قلعہ سیف اللہ، شیرانی، ژوب
انتخابی تشدد
پولنگ کے دوران کئی اضلاع میں تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ قلات اور نوخی کے علاقے دھماکوں کی زد میں رہے۔ تاہم حکام نے کوہلو اور چمن میں دہشت گردی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
پولنگ شروع ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے کہ نصیر آباد میونسپل کمیٹی وارڈ 25 میں دو گروپوں میں مسلح تصادم ہوا جس کے نتیجے میں ووٹنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے معطل رہا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد پولنگ اسٹیشنز میں پولنگ ایجنٹس آپس میں لڑ پڑے اور فائرنگ سے متعدد زخمی ہو گئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
قلعہ عبداللہ میں انتخابی تشدد جان لیوا ثابت ہوا ، جہاں پر ایک شخص تشدد سے جاں بحق ہوگیا۔
سبی میں یونین کونسل مال چاچڑ کے وارڈ 4 میں دو گروپوں میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے کم از کم تین کی حالت تشویشناک ہے۔ لیویز کی نفری نے علاقے میں پہنچ کر حالات کو کنٹرول کیا تھا۔









