زیارت واقعے پر پروپیگنڈا پھر بے نقاب، لاپتہ قرار دیا گیا نوجوان زندہ نکل آیا

یورپ جانے کا ایک موقع ملا تھا، ایجنٹ کے ذریعے نوشکی اور تفتان کے راستے ایران گیا جہاں فورسز نے گرفتار کر لیا، 10 ماہ ایران میں قید کے بعد پاک ایران سرحد پر رہا کردیا گیا، انجینیئر ظہیر بلوچ

زیارت میں لیفٹیننٹ کرنل لئیق اور انکے کزن عمر جاوید کے اغوا اور قتل کے بعد کیےگئے آپریشن میں مارے گئے دہشت گردوں سے متعلق  جھوٹا پروپیگنڈا پھر بے نقاب ہوگیا۔

بلوچستان سے لاپتہ افرادکے لواحقین نے پروپیگنڈا کیا تھا کہ زیارت آپریشن میں مارے گئے دہشت گرد لاپتہ افراد تھے  تاہم مردہ قرار دیا جانے والا  ایک نوجوان جمعے کو زندہ سلامت سامنے آگیا۔

یہ بھی پڑھیے

قبائلی رہنما سردار نور احمد بنگلزئی نے بلوچ نوجوان ظہیر احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  بتایا کہ زیارت میں ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک فوجی افسر اغوا ہوا تھا، زیارت واقعے کے بعد کچھ لوگ مارے گئے، بتایا گیا ظہیر بلوچ نام کا شخص بھی شامل تھا، اس واقعہ کو لےکر کچھ لوگ کوئٹہ کے ریڈ زون پر احتجاج کر رہے ہیں، لاپتا افراد کے اہلخانہ ظہیر کی تصویر لیے احتجاج کر رہے ہیں اور وہ زندہ میرے ساتھ بیٹھا ہے۔

سردار نور احمد بنگلزئی نے کہا کہ زیارت آپریشن سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی حمایت کرتا ہوں، جوڈیشل کمیشن بنانا ہے تو زیارت کے پورے واقعے پر بنایا جائے، جوڈیشل کمیشن بنانا ہے تو ان افراد پر بھی بنایا جائے کہ جنہیں اغوا کیا گیا اور مارا گیا، جوڈیشل کمیشن بنانا ہے تو اس پر بنایا جائے جو دہشتگرد کوئلے کی کان کے مالکان سے بھتہ لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹیوں اور ماؤں بہنوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ہمارے معصوم لوگوں اور نوحوانوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ظہیر بلوچ نے بتایا کہ مجھے یورپ جانے کا ایک موقع ملا تھا، ایجنٹ کے ذریعے نوشکی اور تفتان کے راستے ایران گیا جہاں فورسز نے گرفتار کر لیا، 10 ماہ ایران میں قید کے بعد پاک ایران سرحد پر رہا کردیا گیا۔

لاپتا افراد میں شامل نوجوان نے بتایا کہ نوشکی واپس پہنچا تو کزن نے بتایا کہ آپ کو تو مرا ہوا تصور کر لیا گیا ہے اور فاتحہ خوانی بھی ہو چکی ہے، میرا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں کسی ادارے کے خلاف بھی نہیں ہوں۔

ظہیر بلوچ کے بھائی خورشید نے بتایا کہ ظہیر بلوچ کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، پریشان تھے، 18 تاریخ کو زیارت واقعہ کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ ان کی باڈی اسپتال سے لے لیں، ہمیں خوشی ہے کہ ہمارا بھائی زندہ سلامت ہے۔

متعلقہ تحاریر