کوئٹہ کا تاریخی اسٹیڈیم کھیلوں کی بجائے جلسے جلسوں کے لیے استعمال ہونے لگا
کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں عدالت عالیہ نے ایوب اسپورٹس کمپلیکس میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی مگر اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے جلسوں کی اجازت دینا افسوسناک ہے۔
کوئٹہ میں ایوب اسپورٹس کمپلیکس، کھیلوں کی سرگرمیوں کی بجائے سیاسی جلسوں کیلئے استعمال ہونے لگا ،بلوچستان کے کھلاڑی اور محکمہ کھیل کے حکام نے صوبے کے سب سے بڑے سپورٹس اسٹیڈیم میں سیاسی سرگرمیوں اور جلسوں کے انعقاد کے خلاف ڈٹ گئے۔سیکرٹری کھیل نےآئندہ ایوب اسپورٹس کمپلیکس کو سیاسی جلوسوں کے لئے دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں سے سپورٹس کمپلیکس کو بری طرح نقصان پہنچاہے۔
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع صوبے کے سب سے بڑے سپورٹس کمپلیکس ,ایوب اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلوں کے انعقاد کی بجائے سیاسی جلسوں پر صوبے کے کھلاڑی شدید احتجاج کرتے رہے ہیں۔
ایوب اسپورٹس کمپلیکس کوئٹہ میں کرکٹ ،ہائی، فٹبال، اتھلیٹکس،باکسنگ،کراٹے،والی بال اور اسکواش سمیت مختلف کھیلوں کی سہولیات دستیاب ہیں۔
اس اسپورٹس کمپلیکس میں ہاکی کرکٹ فٹ بال اور باکسنگ سمیت کئی کھیلوں کے کے بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد ہوچکا ہے۔
یہ اسٹیڈیم کئی نیشنل گیمز کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔مگر گذشتہ کچھ عرصے سے اس اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بجائے سیاسی جلسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
کوئٹہ میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی قومی جماعتوں کے زیادہ تر جلسے ایوب اسٹیڈیم میں منعقد کئے جاتے ہیں،ماضی میں نواب اکبر خان بگٹی اور امریکہ میں سزا موت پانے والے ایمل خان کاسی سمیت بعض شخصیات کے جنازوں کے بڑے اجتماعات بھی ایوب سٹیڈیم میں منعقد کیے گئے۔
کوئٹہ میں گزشتہ دنوں کھلاڑیوں کی جانب سے ایوب اسپورٹس کمپلیکس بالخصوص فٹبال گراؤنڈ میں سیاسی جلسوں کے انعقاد پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلوں کے علاوہ دیگر سرگرمیوں پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ صوبے میں پہلے ہی کھیلوں کے میدان کم ہیں جب کہ ایوب اسپورٹس کمپلیکس جہاں کھیلوں کی سہولیات دستیاب ہیں اور ماضی قریب میں یہاں کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، سیاسی سرگرمیوں کے سبب اسپورٹس کمپلیکس کو نقصان پہنچا اور خوبصورتی بھی متاثر ہوئی۔
کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں عدالت عالیہ نے ایوب اسپورٹس کمپلیکس میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی مگر اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے جلسوں کی اجازت دینا افسوسناک ہے۔
محکمہ کھیل کے حکام نے محکمے کی رضا مندی کے بغیر اسپورٹس کمپلیکس میں جلسوں کیلئے این او سی دینے پر محکمہ داخلہ کو تحفظات سے آگاہ کر دیا۔
محکمہ کھیل کا مراسلہ میں کہنا تھا کہ ایوب اسپورٹس کمپلیکس میں فٹبال ، ہاکی اور کرکٹ کے ملکی اور بین الاقوامی سطح کے کئی ٹورنامنٹس منعقد کرائے جاچکے ہیں اور آئندہ سال مئی میں نیشنل گیمز کے انعقاد کیا جائے گا ، جس کیلئے اسپورٹس کمپلیکس کی مرمت پر بھاری رقم خرچ کی جا چکی ہے ، لیکن اس کے برعکس چند دنوں میں دو بڑے سیاسی جلسے منعقد کئے گئے جس کے لئے انتظامیہ نے محکمہ کھیل سے این او سی لئے بغیر سیاسی جلسوں کی اجازت دے دی ۔
ایوب اسپورٹس کمپلیکس میں سیاسی جلسوں کے انعقاد پر سیکر ٹری کھیل بلوچستان محمد اسحاق بالی نے محکمہ داخلہ کو مراسلہ لکھ کر اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا۔
سیکرٹری کھیل بلوچستان محمد اسحاق جالی نے بتایا کہ محکمہ داخلہ کو آئندہ سیاسی جلسوں کیلئے ایوب اسپورٹس کمپلیکس دینے سے منع کر دیا گیا ہے کیونکہ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ اسپورٹس کمپلیکس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔









