خواتین کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے سدباب کیلئے مسودہ تیار کرلیا گیا

قومی کمیشن برائے وقار نسواں نے یو این ڈی پی اور یو این ویمن کے تعاون سے قومی سیاست میں خواتین کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے سدباب کے لیے مجوزہ ضابطہ اخلاق کا مسودہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حوالے کردیا گیا ہے

نیشنل کمیشن برائے وقار نسواں نے یو این ڈی پی اور یو این ویمن کے تعاون سے قومی سیاست میں خواتین کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی ممانعت کے لیے مجوزہ ضابطہ اخلاق کا مسودہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حوالے کیا۔

تقریب گزشتہ ہفتوں میں ہر صوبے میں ضابطہ اخلاق کیلئے مشاورت کے بعد منعقد ہوئی۔ مشاورت میں کثیر تعداد میں ارکان پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن کے نمائندوں، سیکیورٹی اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ کے ڈاکو تاوان میں خواتین مانگنے لگے، ریپ کی وڈیوز ڈارک ویب پر برائے فروخت

قومی کمیشن برائے وقار نسواں، الیکشن کمیشن پر سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور کارکنوں کیلئے ضابطہ اخلاق کی دفعات اور پابندیاں لانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو خواتین کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت انگیز تقریر کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت اور سنگین نتائج یعنی الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دینا بھی شامل ہے۔چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں نیلوفر بختیار نے اپنے ابتدائی کلمات میں تقریب میں آنے پر  شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستان کی خواتین نے آج اس مقام پر پہنچنے کے لیے بہت محنت کی ہے، ہمارے پاس ہے اور ہم ملک کو خواتین کے لیے ایک محفوظ مقام بنانا جاری رکھیں گے۔

 سینیٹر فوزیہ ارشد، ایم این اے مہناز عزیز اور سینیٹر سیمی ایزدی نے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی میدان میں خواتین کے خلاف غیر مہذب تبصروں پر تبادلہ خیال کیا جن کا خاتمہ ضروری ہے۔

 انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس طرح کے تبصروں کو روکنے کیلئے مل کر کام کرنا کس طرح ضروری ہے۔  نبیلہ ملک، ممبر یو این ویمن نے ضابطہ اخلاق کے تعارف اور اقدام کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

یہ بھی پڑھیے

دیپک پروانی کو سیاستدانوں کو جھگڑالو خواتین سے تشبیہ دینا مہنگا پڑگیا

رسمی حوالگی کے آغاز سے پہلے، میمونہ یو این ڈی پی نے نیشنل کمیشن برائے وقار نسواں، یو این ڈی پی اور یو این ویمن کی طرف سے اس اقدام کی اہمیت پر تبصرہ کیا۔ اس کے بعد مجوزہ ضابطہ اخلاق کو چیف گیسٹ سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) عمر حامد کے حوالے کیا گیا۔

 انہوں نے اس اقدام کے لیے نیشنل کمیشن، یو این ڈی پی اور یو این ویمن کا شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ ایک زیادہ روادار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

متعلقہ تحاریر