اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایرانی اشیاء کی فروخت میں بے تحاشا اضافہ
ملک میں مہنگائی کی شرح 42 فیصد پہنچنے پر شہریوں نے غیرقانونی طور پر درآمد کی گئی ایرانی اشیائے خور ونوش کی خریداری شروع کردی جوکہ کم قیمت میں اچھی کوالٹی کی عامل ہیں جبکہ دکانداروں کے لیے منافع کی شرح میں زیادہ ہے

ملک بھر کی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپندی کے شہری بھی دن بدن بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں تاہم جڑواں شہروں کے مکینوں نے مہنگائی کا توڑ نکال لیا ہے ۔
اسلام آباد اور اس کے ملحق شہر راولپنڈی میں مہنگائی سے پریشان صارفین نے سستی ایرانی اشیاء کی خریداری میں دلچسپی لینا شروع کردی ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
رمضان میں منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش؛ مہنگائی کی شرح 49 فیصد ہوگئی
ملک میں جہاں ایک جانب مہنگائی کی شرح 42 فیصد تک پہنچچ چکی ہے وہی ایرانی اشیاء کی کم قیمت پر موجودگی نے صارفین کا اپنی طرف راغب کرلیا ہے ۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسمگلنگ کی گئیں ایرانی اشیاء وافر مقدار میں فروخت کے لیے پیش کی جارہی ہیں جبکہ اس کے خریداروں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔
جڑواں شہروں کے ہفتہ و اتوار بازاروں میں ایران سے غیر قانونی طور پر درآمد کی گئیں اشیائے خور و نوش کی بھرمار ہو گئی ہے ۔ جس میں کھانے پینے کی اشیاء بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کی دکانوں میں باقاعدہ اسمگل کی گئی ایرانی اشیاء فروخت کی جارہی ہیں جبکہ متعدد دکانوں میں صرف پڑوسی ملک کی اشیاء ہی موجود ہیں۔
ایرانی اشیاء میں زیادہ فروخت ہونے والے سامان میں خوردنی تیل، مکھن اور پنیر جیسی اشیاء شامل ہیں تاہم صارفین کو ایرانی تیل کی خیرداری میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
ایرانی اشیاء کی فروخت کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک کے سامان کی کوالتی بہت بہتر ہوتی ہے جبکہ اس کی شیلف لائف بھی زیادہ ہے ۔
دکانداروں نے بتایا کہ ایرانی اشیاء کی فروخت میں منافع بھی بہت زیادہ مل جاتا ہے جبکہ اچھی کوالتی کے سبب دن بدن ان اشیاء کی مانگ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔









