شیریں مزاری نے ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا
سابق وفاقی وزیر نے اپنی دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا نام غیر قانونی طور پر فہرست میں ڈالا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔
منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کرتے ہوئے شیریں مزاری نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا نام فہرست میں شامل کرنا خلافِ قانون ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کو ایک دن میں کئی ریلیف مل گئے: مختلف عدالتوں سے 11 مقدمات میں عبوری ضمانتیں منظور
توشہ خانہ کیس: عدالت نے عمران خان کے وکیل کا سماعت کا حق ختم کر دیا
پی ٹی آئی کی سابق رہنما نے اپنی دائر کردہ درخواست میں وزارت داخلہ کے سیکرٹری اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو کیس میں فریق بنایا ہے۔
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری ان درجنوں رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہیں 9 مئی کے احتجاج کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور پھر دوبارہ رہا کیا گیا تھا۔ انہیں پی ٹی آئی کے متعدد دیگر ارکان کے ساتھ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ ای سی ایل کا قانون لوگوں کو ملک چھوڑنے سے روکتا ہے۔









