تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی 9 مئی تشدد کیس میں ضمانت منظور
شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ پولیس نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے میرے موکل کو مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی۔
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ہفتہ کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی 9 مئی کے تشدد سے متعلق کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید ہارون احمد نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کے خلاف کھنہ تھانے میں درج مقدمے کی سماعت کی، شاہ محمود قریشی اور ان کے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد کی عدالت نے عمران بشریٰ نکاح کی درخواست پر فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
دہشت گردی کے تین مقدمات میں عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
سماعت کے دوران وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
وکیل علی بخاری کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ جس مقدمے میں میرے موکل کو نامزد کیا گیا ہے ، وہ جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے ، اور نہ ہی انہوں نے کوئی مجرمانہ بیان دیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ پولیس نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے میرے موکل کو مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی۔
عدالت سے شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی توثیق کرنے کی استدعا کرتے ہوئے وکیل دفاع علی بخاری نے کہا کہ ان کے موکل کو عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے اور وہ جاری تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کو تیار ہیں۔
پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کی قانونی ٹیم کے دلائل پر غور کرنے کے بعد عدالت نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔









