اسلام آباد ہائی کورٹ سے ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی درخواست نامکمل قرار
ڈی جی نیب لاہور نے خاتون طیبہ گل کے معاملے پر پی اے سی کی جانب سے طلبی کے نوٹس کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو ( نیب )میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کی جانب سے خاتون طیبہ گل کے الزامات پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں طلبی کے خلاف دائر درخواست نامکمل قرار دے دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے ڈی جی نیب کی درخواست کی سماعت کی گئی ۔اس دوران عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ درخواست پر بائیو میٹرک تصدیق نہیں کی گئی ہے، جس پر ڈی جی نیب شہزاد سلیم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اعتراض دور کر دیتے ہیں، جس کے بعد آج ہی درخواست کی سماعت کی جائے۔
یہ بھی پڑھیے
ضمنی الیکشن سے 2 روز قبل پی ٹی آئی کیخلاف قانونی کارروائیوں کا آغاز
رانا ثنا اللہ کی اخلاقیات سے عاری ٹوئٹ پر پی ٹی آئی کا کرارا جواب
جس پر عدالت نے وکیل کو حکم دیا کہ 2 روز میں اعتراضات دور کردیا جائے جس کے بعد درخواست کی سماعت کرلیں گے۔
ڈی جی نیب لاہور میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم نے خاتون طیبہ گل کے معاملے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے طلبی کے نوٹس کو گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ طلبی نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے۔
ڈی جی نیب لاہور میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طیبہ گل کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ان کے خلاف دی گئی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، مزکورہ خاتون کی ایک درخواست احتساب عدالت لاہور میں جبکہ اسی نوعیت کی ایک درخواست وفاقی شرعی عدالت میں بھی زیر سماعت ہے ۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب ملک کی مختلف عدالتوں میں طیبہ گل سے متعلق درخواستیں زیرالتوا ہیں تو اس صورت حال میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے متوازی پروسیڈنگز چلا کر اپنے اختیارات سے تجاوزکررہا ہے۔پی اے سی اس معاملے کی تحقیقات نہیں کرسکتی۔ ڈی جی نیب لاہور کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی انھیں طلب کرنے کا نوٹس جاری نہیں ہہں کرسکتی،اس لئے ان کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت عالیہ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے چیئرمین پی اے سی، ڈی جی نیب لاہور سے بدلہ لینا چاہتے ہوں یا اس طرح بلا کر اپنی انکوائری کے معاملےمیں فائدہ لینا چاہتے ہوں۔اس لئے جب تک کیس عدالت میں زیر التوا ہے عدالت عظمیٰ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے نوٹس پر حکم امتناع جاری کرے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ایک خاتون طیبہ گل کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے انہیں حراساں کیا،اس حوالے سے ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ہراسگی کا الزام لگانے والی خاتون طیبہ گل نے پی اے سی اجلاس میں ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد پر بھی سنگین الزامات عائد کئے تھے جس پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ڈی جی نیب سلیم شہزاد کو کمیٹی میں پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
ڈی جی نیب لاہور کی درخواست میں سیکرٹری قومی اسمبلی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ونگ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔









