کسان اتحاد کا اسلام آباد کی جانب مارچ، انتظامیہ نے ریڈزون کو سیل کردیا

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ زرعی ٹیوب ویلز ، بجلی بلز میں ناجائز ٹیکس ختم کیے جائیں۔ سستی ڈی اے پی یوریا کھاد کی فراہمی، بلیک میں فروخت پہ پابندی جاری رکھی جائے۔ گندم ریٹ عالمی مارکیٹ کے مطابق مقرر کیے جائیں۔

کسان اتحاد نے آج مطالبات کے حق میں اسلام آباد تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ نے سیکورٹی کے نام پر وفاقی دارالحکومت کی اہم شاہراہیں کنٹینرز لگاکر بند کردیں جس کے سبب طالب علموں اور سرکاری ملازمین سمیت شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور گھنٹوں ٹریفک جام رہی۔

کسان اتحاد نے آج مطالبات کے حق میں اسلام آباد میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے، چند روز قبل بھی کسانوں نے ریلی نکالی تھی، جس میں وزیر داخلہ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وزیراعظم کے وطن واپس پہنچنے پر ان کی کسانوں سے ملاقات کرائی جائے گی۔

کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون سمیت اسلام آباد کی مختلف شاہراہیں کنٹینرز اور دیگر افعال لگا کر بند کر دی گئیں۔ جن میں روات ٹی چوک، ایکسپریس وے، جی ٹی روڈ ، ڈی چوک ، نادرہ چوک اور دیگر شاہراہیں شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رکاوٹوں کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شدید ٹریفک جام ہونے کے سبب طالب علموں ، سرکاری ملازمین اور کاروباری حضرات سمیت شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

PTI, Long March, Islamabad, Red Zone Cell
google source

پولیس کا کہنا ہے کہ کہ سیکورٹی کے پیش نظر مختلف شاہراہیں بند کی گئی ہیں جب کہ ریڈ زون کے بعض راستے محدود آمدورفت کے لئے کھلے ہیں۔ ریڈ زون اور شہر کے دیگر مقامات پر پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

کسان اتحاد کے مطابق ان کی ریلی آج فیض آباد کے مقام سے سے  ہوتے ہوئے وفاقی دارالحکومت پہنچے گی۔

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ زرعی ٹیوب ویلز ، بجلی بلز میں ناجائز ٹیکس ختم کیے جائیں۔ سستی ڈی اے پی یوریا کھاد کی فراہمی، بلیک میں فروخت پہ پابندی جاری رکھی جائے۔ گندم ریٹ عالمی مارکیٹ کے مطابق مقرر کیے جائیں۔

کسان اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے سبسڈی کی بجائے کھاد بیج سپرے کی ڈائریکٹ قیمتیں کم کی جائیں۔ فصلوں کی سپورٹ پرائس وقت کاشت سے پہلے مقرر کی جائیں۔

PTI, Long March, Islamabad, Red Zone Cell
news 360

ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو آسان شرائط پہ قرض، زرعی مشینری، جدید ٹیکنالوجی مہیا کی جائے۔ گنے کی سپورٹ پرائس مقرر کرکے شوگر ملز سے کسانوں کے سابقہ واجبات ادا کروائے جائیں۔ مڈل مین ، آڑھتی، کمیشن شاپ کلچر ختم کر کے منڈی کو آزاد کیا جائے۔

کسان اتحاد کا کہنا تھا سولر ٹیوب ویلز، بائیو گیس پلانٹ لگانے میں تکنیکی معاونت اور سرمایہ دیا جائے۔ آبپاشی کے نظام کو جدید خطوط پہ استوار کرکے فی ایکڑ نہری پانی کے وقت میں اضافہ کیا جائے۔ زرعی زمین کی فروخت و رہائشی تعمیر پہ پابندی لگائی جائے۔ فصلوں اور مویشیوں کی انشورنس دی جائے۔

متعلقہ تحاریر