اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو بنی گالہ کے رہائیشیوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا

عدالت نے درخواست گزار اور شہریوں کو آئندہ سماعت تک ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ سے قبل بڑا حکم جاری کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کی پی ٹی آئی رہنماؤں سے متعلق بنائی فہرست پر سوال اٹھا دیے اور شہریوں کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے سابق ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللّٰہ نیازی کی درخواست کی سماعت کی۔ جس میں استدعا کی گئی تھی کہ اسلام آباد کے تھانہ بنی گالہ کی پولیس نے پی ٹی آئی مارچ سے قبل فہرست بنائی ہے، اس حوالے سے درخواست گزار کو بھی بنی گالہ تھانہ کے اہلکار کی جانب سے ٹیلی فون کیا گیا اور پھر پیغام موصول ہوا کہ جس میں ان سے پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے بیان حلفی مانگا گیا تھا۔

یہ بھی  پڑھیے

ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، اعظم سواتی جیل منتقل

خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں عمران خان کی مستقل ضمانت منظور

درخواست گزار کی جانب سے خاور امیر بخاری ایڈووکیٹ اور دیگر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پولیس یہ کیسی لسٹیں بنارہی ہے؟

اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ آئی جی پولیس کی جانب سے فہرست بنوائی گئی تھی، ان ہی کے حکم پر ہم نے درخواست گزار سے ضمانتی بانڈز کے لئے کہا۔

چیف جسٹس نے پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہراسمنٹ ہے، آپ کیسے اس معاملے پر کال کر سکتے ہیں؟ یہ کوئی طریقہ ہے؟ وہ سابق ایڈووکیٹ جنرل ہیں۔

پولیس حکام نے کہا کہ رپورٹ اسپیشل برانچ نے بنا کردی۔

چیف جسٹس نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کو کس نے کال کی تھی؟ جس پر تھانہ بنی گالہ پولیس سب انسپکٹر عظمت باجوہ نے کہا کہ انہوں نے ٹیلی فون کرکے ضمانتی بانڈ جمع کرانے کے لیے کہا تھا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت پولیس ضمانتی بانڈ مانگ رہی ہے؟۔

پولیس حکام نے کہا کہ ہم نے نقص امن کی وجہ سے ضمانتی بانڈ مانگے تھے، جو حکم تھا اس پر عمل کیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مجسٹریٹ ہی ضمانتی بانڈز کا ٓحکم دے سکتا ہے پولیس کو اس کا اختیار نہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ ضمانتی بانڈز کے حوالے سے پولیس کا اختیار کیا گیا طریقہ کار  قانون کے مطابق نہیں۔

اسپیشل برانچ نے جو لسٹ بنائی اس سے متعلق آئندہ سماعت پر مطمئن کیا جائے۔

عدالت نے درخواست گزار اور شہریوں کو آئندہ سماعت تک ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

متعلقہ تحاریر