ای سی پی کا فیصلہ عمران خان کو عام انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عمران ان جس سیٹ پر تھے صرف اُس سے نااہل ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ بظایر گزشتہ عام انتخابات کے حوالے سے ہے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان کو نئے الیکشن لڑنے سے نہیں روکتا۔ یہ فیصلہ صرف گزشتہ عام انتخابات کے حوالے سے تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کے خلاف ان کی درخواست کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

اعظم سواتی کی ضمانت منظور: پاسپورٹ اور 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم

تحریک انصاف کے گرفتار رہنما صالح محمد کے گلے میں تختی لٹکانے پر پولیس اہلکار معطل

عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں درخواست کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بدنما دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کا ’سر پیر ہی نہیں، یہ ایک غیر قانونی فیصلہ ہے۔‘

۔انہوں نے استدعا کی کہ مختصر فیصلے کو معطل کیا جائے۔

وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے سے عمران خان پر ایک داغ لگا ہے۔ وہ اس کے ساتھ الیکشن میں نہیں جانا چاہتے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس مختصر فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی موجود ہے۔ وکیل کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن مختصر فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی بھی نہیں دے رہا، جبکہ تفصیلی فیصلے کی کاپی بھی نہیں ملی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو فیصلہ موجود ہی نہیں اسے کیسے معطل کر دیں۔ عدالت عالیہ نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ دو چار دن انتظار کرلیں، فیصلہ آجائے پھر اعتراضات دور کر دیجیئے گا، عمران خان اسمبلی میں تو جانا ہی نہیں چاہتے ناں تو ایسے میں جلدی کیا ہے؟ تصدیق شدہ کاپی تو آ لینے دیں، 3 دن میں تصدیق شدہ کاپی نہ ملی تو ہم دوبارہ کیس سن لیں گے۔ تین دن میں آپ کیخلاف کچھ بھی نہیں ہو جائے گا، یہ عدالت کوئی غلط نظیر نہیں بنانا چاہتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی تاریخ سے بتا دیں غیرتصدیق شدہ حکم کیسے معطل کریں، الیکشن کمیشن نے زبانی فیصلہ اس عدالت کے سامنے تو نہیں سنایا ناں۔

بیرسٹر علی ظفر میں موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن اب ہمارے اعتراضات دیکھ رہا ہے ، وہ فیصلہ جاری کرنے سے پہلے ان اعتراضات ختم کردے گا، فنڈنگ کیس میں پہلے الیکشن کمیشن ایسا ہی کر چکا ہے۔

وکیل علی ظفر نے سوال اٹھایا کہ کہ الیکشن کمیشن نے ابھی فیصلہ لکھا نہیں، سب ممبرز کے دستخط نہیں تھے اور فیصلہ سنا دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا تو عدالتوں میں بھی ہوتا رہتا ہے، محفوظ کیے گئے فیصلے میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، اگر ایک ہفتے میں کاپی نہیں ملتی تو دوبارہ کیس لگانے کی درخواست دیں۔

عدالت نے عمران خان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ

عمران خان جس سیٹ پر تھے صرف اُس سے نااہل ہوئے ہیں، فیصلہ عمران خان کو نئے الیکشن لڑنے سے نہیں روکتا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ بظایر گزشتہ عام انتخابات کے حوالے سے ہے۔ عمران خان کُرم کے ضمنی الیکشن کیلئے بھی نااہل نہیں ہوئے۔

متعلقہ تحاریر