اسلام آباد میں ان ڈرائیور کے رائڈر کی خاتون کے ساتھ مبینہ ہراسانی

خاتون نے آئی 8 مرکز جانے کیلیے رائیڈ بک کرائی تھی، موٹرسائیکل سوار متعین راستہ نظر انداز کرکے خاتون کو سڑکوں پر گھماتا رہا، خاتون نے بھاگ کر جان اور عزت بچائی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔تازہ ترین واقعےمیں آن لائن ٹیکسی سروس ان ڈرائیور کے رائیڈر کی جانب سے خاتون کو مبینہ طور پر ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کمپنی نے خاتون کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ رائیڈر کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کرادی۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد ایکسپریس وے پر حادثے کا شکار خاتون سے  مبینہ ہراسانی کا انکشاف

اسلام آباد کے کچنار پارک میں نصب ’صنف آہن‘ کا مجسمہ منہدم

وینٹنگ ویکا نامی خاتون ٹوئٹر صارف نے طویل تھریڈ میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ایک انتہائی تکلیف دہ تجربہ ہوا اور خوش قسمتی سے وہ بچ گئیں ۔ انہوں نے اپنی نظر چیک کرانے اور چشمہ بنوانے کیلیے آئی 8 مرکز کیلیے سہ پہر 2بجکر 59منٹ پر ان ڈرائیو کی موٹرسائیکل رائیڈ بک کروائی۔

خاتون کا کہنا ہے کہ” سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا،جب ہم اس مقام پر پہنچے جہاں اسے فیصل ایونیو سے باہر نکلنے کے لیے چورنگی کا رخ کرنا تھالیکن  اس نے اسے چھوڑ دیا ، مجھے لگاکہ   اس نے غلطی کی ہوگی اور وہ اگلے قریب ترین  اخراج سے باہر نکل جائے گا  لیکن اس نے سفر جاری رکھا لیکن جوں ہی اس نے شکرپڑیاں انٹرچینج کوبھی نظر انداز کیا تو  میں فوری چوکنا ہوگئی  اور اسے کہا”یہ کہاں جا رہا ہے؟“۔

خاتون کے مطابق رائیڈر نے جواب دیا کہ”کہاں جانا چاہتی ہو“ میں نے اسے زور سے دھکا دیا اور اس نے توازن برقرار رکھنے کے لیے موٹر سائیکل کو آہستہ کر دیا۔خاتون کا کہنا ہے کہ”میں چلتی ہوئی بائیک سے اتری اور اس نے مجھے گوگل میپ الٹا کے دکھایا کہ  یہ راست سیدھا شکرپڑیاں کی طرف جا رہا ہے اور پھر مجھے لولی لنگڑی تاویلیں پیش کرنا شروع کردیں“۔

خاتون کا کہنا ہے کہ”خوش قسمتی سے سڑک کی دوسری جانب  ایک اور موٹر سائیکل سوار تھا جوخاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ میں نے سڑک عبور کی اور مدد کی درخواست کی ، گارڈن ایونیو پر ٹریفک یا پولیس نہیں تھی۔ یہ سب کچھ منٹوں میں ہوا،میں نے جتنی جلدی ہو سکا اس جگہ سے فرار ہونے کی کوشش کی“۔

خاتون نے بتایا کہ” میں نے گھبراہٹ پر قابو پاکراپنا حوصلہ برقرار رکھا اور  وہ رائیڈر بھاگ گیا۔ میں نے دوسرے موٹر سائیکل سوار سے درخواست کی کہ وہ مجھے آئی 8 مرکز میں چھوڑ دے تاکہ میں چیزوں کا پتہ لگا سکوں۔ قسمت اچھی تھی کہ وہ کم بیوقف تھا۔ وہ بغیر رجسٹریشن کے سبز ہیلمٹ پہن کر غیر قانونی طور پر موٹر سائیکل چلا رہا تھا“۔

خاتون نے بتایا کہ”دوسرے موٹرسائیکل سوارنے مجھے آئی 8 چھوڑا  اور میں نے اسے کچھ نقد رقم بطور صدقہ  دی۔ ہوش بحال کرنے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے I-8/3 پارک میں بیٹھی اور گھر پہنچنے کے لیے ایک اور کار بک کروائی۔ میں اب تک حواس باختہ ہوں،حالات بہت  خراب ہو سکتے تھے لیکن اللہ نہیں رحم کیا ہے“۔

خاتون نے ان ڈرائیو کی ایپلی کیشن پر شکایت درج کرانے کےباوجود کوئی جواب نہ آنے کا بھی شکوہ کیا۔ انہو ں نے کہاکہ”   میں دو سال سے رائیڈ ہیلنگ ایپس میں بائیک استعمال کر رہی ہوں اور یہ ایک خوفناک تجربہ رہا ہے، کچھ بھی غلط ہو سکتا تھا۔ گاڑی میں بھی ایسا ہی ہو سکتا تھا۔ خواتین اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں“۔

انہوں نےمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ”اس ملک میں عورت کوسانس لینےاور  زندہ رہنے   کیلیے پوری  ہمت دکھانا پڑتی ہے۔ میری دعا ہے کہ ہم سب غلاظت سے نکل  جائیں،مجھے یہاں پیدا ہونے پربالکل بھی فخر نہیں ہے“۔

خاتون نے کہا کہ” اتنی حواس باختہ ہوں کہ میں رونے سے قاصر ہوں اور پچھلے ایک گھنٹے سے ٹھنڈے فرش پر بیٹھی ہوئی ں۔ اپنی آنکھوں کی بینائی چیک کروانے اور عینک بنوانے کے لیے آئی 8 مرکزگیا۔ مجھے کیا پتہ تھا  یہ سب ہوجائے گا“۔

بعدازاں ان ڈرائیور کے ٹوئٹر ہینڈل نے خاتون سے رابطہ کرکے مذکورہ ڈرائیور کی معلومات حاصل کیں اور انہیں کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خاتون نے ان ڈرائیو کی انتظامیہ سے اپنی نمائندوں کو نفسیاتی طبی امداد کی فراہمی کے بارے میں آگاہ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔انہوں نے شکوہ کیا کہ  کمپنی کی خاتون نمائندہ نے انہیں میسیج کیے بغیر براہ راست فون کردیا ۔

متعلقہ تحاریر